فلم ہیرا منڈی کے نواب شیکھرسمن پھربطورمیزبان،کامیڈین ٹی وی پر جلوہ گر

لندن:( حسنین جمیل سے) اردو زبان جگت بازی کی زبان نہیں ہے طنز ومزاح کی زبان ہےیہی بات ہندی بھاشا کے لئے کہی جا سکتی ہر زبان کا اپنا علاقہ ہوتا ہے اور اس زبان کے ریڈیو ٹی وی فلم اور تھیٹر سکرپٹ اسی نزاکت کے ساتھ لکھتے ہیں جب 90 کی دہائی میں اردو تھیٹر اور فلم پر عمر شریف کا اور ٹی وی پر معین اختر کا راج تھا تب ہندی بھاشا کے ٹی وی پر شکھیر سمن مہاراجہ بنے بیٹھے تھے۔

ایک ایسے اداکار جنہوں نے 1984میں ریکھا جیسی مہان اداکارہ کے ساتھ فلم سے کام کا آغاز کیا مگر ناکام رہے ،ان کی کافی عرصہ تک فلمیں مسلسل ناکام رہیں مگر سرکاری ٹی وی چینل دور درشن پران کے ڈرامے پزیرائی حاصل کرتے رہے اوران کو خوب پزیرائی ملی ۔

جب بھارت میں نجی چینلز کا آغاز ہوا تب وہ ٹی وی کا بڑا نام بن چکے تھے ، امر پریم ، ایک کامیاب ڈرامہ تھا ، تب اچانک انہوں نے کامیڈی کافیصلہ کیا اس سے پہلے وہ سنجیدہ اداکاری کررہے تھے اور کامیڈی بھی کونسی stand up comdey جو اور بھی مشکل ہے اپ one man show ہوتے مگرشیکھر نے وہ سب کر دکھایا۔
پہلے ڈش انٹنیا اور پھر کیبل نیٹ ورک کے دور میں بھارت اور پاکستان کے ہر گھر میں شیکھر سمن ایک جانا پہچانا چہرہ بن چکے تھے 90 سے لے کر 2012 ،13 تک وہ یہ کام کرتے رہے اس دوران لوک سبھا کا الیکشن لڑامگرہار گئے ان کا بطور گلوکار ایک البم بھی آیاجو کچھ خاص نہ چلا پھر دو سال قبل سنجے لیلا بھنسالی کی ہیرا منڈی میں نواب کا کردار نبھایا مگر اب 14 سال بعد ایک بارپھر ٹی وی پر اپنے پرانے انداز میں بطور Host اور stand up comdey کے ذریعے واپس آئے ہیں جس پر ناظرین اوران کے چاہنےوالوں نےنیک خواہشات کا اظہار کیا ہے ۔



