گھریلو ناچاقی، کاروباری بندش کیلئے چتا کی راکھ کا استعمال(چھٹی قسط)
انسانی کلیجہ ،فضلہ،خنزیراوربکرے کا گوشت سفلی جادوگروں کی خوراک،قبرستان ٹھکانہ:ذرائع:نوٹ 27اگست بروزبدھ آخری قسط پیش اورکالے جادوسے بچائو کے طریقے بتائے جائیں گے
لاہور:(رپورٹ/محمد قیصر چوہان)سفلی جادوگروں کے قریبی ذرائع کے مطابق بیشتر سفلی عاملوں کے کوئی مستقل ٹھکانے نہیں ہوتے بلکہ وہ اپنی بے سکونی کے سبب کسی ایک جگہ ٹک کر نہیں بیٹھ سکتے اور آوارہ گردی میں ہی خوش رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ چونکہ انہیں اپنے جادو کا شکاربننے والے افراد اور دیگر رقیب جادو گروں سے جان کا خطرہ بھی ہوتا ہے چنانچہ وہ اپنے ٹھکانے بدلتے رہتے ہیں۔ تاہم سفلی علم کرانے والے افراد ان ”آوارہ “ جادوگروں کے عارضی ٹھکانوں سے باخبر ہوتے ہیں اور کسی نہ کسی ویرانے یا قبرستان میں ان کا کھوج نکال ہی لیتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسے آوارہ جادو گروں کی پہچان بھی عام آدمی کیلئے انتہائی مشکل ہوتی ہے۔ وہ ظاہری حلیے سے ہیروئنچی یا پاگل نظر آتے ہیں۔ ویران قبرستان ان کی پسندیدہ جگہ ہوتی ہے۔ لیکن شہری علاقوں میں بھی بعض جگہوں پر وہ کچھ عرصے کیلئے رہنے لگتے ہیں اور پھر اچانک کہیں اور چلے جاتے ہیں۔ عام لوگوں کی نظر میں بے کار قسم کے یہ افراد سفلی جادو سے ناجائز کام کرانے والوں کے لیے بڑے کارآمد ہوتے ہیں جنہوں ڈھونڈتے ہوئے وہ جنگل ، بیابانوں کی خاک چھانتے ہوئے ان تک پہنچ جاتے ہیں۔
سفلی عاملین کے قریبی ذرائع کے مطابق سفلی جادوگر جنات کو شراب پلا کر آلہ کار بناتے ہیں اور پھر ان شریر جنات سے مذموم کام کراتے ہیں۔ سفلی جادو گر انتہائی گندے رہتے ہیں اور ہر سفلی عمل سے پہلے انسانی فضلہ کھاتے ہیں۔ سفلی عمل خالصتاً شیطانی فعل ہے جو غلاظت اور ناپاکی سے بھرا ہوتا ہے۔ سفلی عاملین چونکہ شیطان(ابلیس) کو معبود (استغفراللہ) مان کر اپنا دین و مذہب چھوڑ چکے ہوتے ہیں چنانچہ ان کا سب سے بڑا ٹارگٹ یہ ہوتا ہے کہ دیگر لوگوں کا بھی ایمان چھین کر ان کی آخرت برباد کر دیں۔
ذرائع کے مطابق سفلی جادو گر مختلف عملیات کیلئے درکار انسانی اعضا حاصل کرنے کیلئے جہاں تازہ قبریں کھودتے ہیں وہیں اب ملک کے کئی شہروں کے مختلف ہسپتالوں کے طبی عملے میں شامل کچھ بد بخت لوگ بھی پیسوں کی لالچ میں انہیں مطلوبہ اعضا فراہم کرنے لگے ہیں۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ ان انسانی اعضا میں سب سے زیادہ ڈیمانڈ کلیجی کی ہوتی ہے۔ سفلی جادو گر انسانی کلیجے پر مختلف مہلک کالے عمل کرتے ہیں۔ اسی طرح سفلی جادو گر بکرے بھی طلب کرتے ہیں۔ انہیں بکروں تازہ خون درکار ہوتا ہے جو وہ بعض سفلی عملیات شروع کرنے سے پہلے پیتے ہیں۔ اس حوالے سے وہ سب سے زیادہ اہمیت خنزیر کے خون کو دیتے ہیں۔ لیکن خنزیر کے خون کی مشکل سے دستیابی کی وجہ سے بیشتر عامل شراب اور بکرے کا خون پی کر سفلی عمل شروع کرتے ہیں۔ جبکہ شیطان کو خوش کرنے کے لیے جادوئی عمل کے دوران ناپاکی کی حالت میں رہا جاتا ہے۔
سفلی عاملوں کی مذموم سرگرمیوں کے بارے میں ذرائع نے بتایا کہ ”سفلی جادو کرنے کے لیے براہ راست شیطان سے مدد لی جاتی ہے۔شیطان غلاظت اور ناپاکی سے خوش ہوتا ہے۔ اس لیے سفلی جادو گر اپنے کلائنٹس کو بھی ایسے ناپاک فعل کرنے کا کہتے ہیں کہ ان کا ایمان خراب ہو جائے اور شیطان کو خوش کیا جائے۔“ سفلی عمل کرنے والوں کا ایک دعویٰ بہت مشہور ہے کہ ”محبوب آپ کے قدموں میں۔“ اس کا دعویٰ کرنے والے بیشتر جادو گر نوسر باز ہوتے ہیں تاہم ماہر سفلی جادو گر اس عمل کے لیے غلاظت پر ”تنتر“ پڑھت کر دیتا ہے۔
سفلی عمل کرانے والا اس چیز کو کسی بہانے سے مطلوبہ فرد کو کھلا دے تو وہ اس کی باتیں ماننے لگتا ہے۔ جہاں تک بات ہے کہ کسی کو ”غلام“ بنانے کی تو اس کے کئی سفلی عملیات ہیں۔ ایک عمل یہ ہے کہ سفلی عامل کسی کو غلام بنانے کی خواہش لے کر آنے والے فرد سے کہتا ہے کہ جہاں کوئی گدھا بیٹھتا ہو، وہاں سے اس کی لید کے نیچے کی مٹی لے آﺅ۔ عامل اس پر شیطانی منتر پڑھتا ہے۔ پھر اس مٹی پر بکرے یا سور کے خون کے چھینٹے مارتا ہے اور سائل کو دے دیتا اور ہدایت کرتا ہے کہ اس مٹی کو جسے غلام بنانا ہو اس کے سونے کی جگہ پر ڈال دو۔
ذرائع کے مطابق ایک اور دعویٰ بھی سننے کو ملتا ہے کہ دشمن زیر ہو گا، برباد ہو گا، یا مرجائے گا! اس کام کیلئے سفلی عامل کسی بھی انسان کو پاگل کرنے کیلئے سائل سے بکرے یا سور کا خون منگواتا ہے۔ پھر اس خون کو شیطان کو پیش کرتا ہے، خون پیتے ہی شیطانی موکل، ہدف بنائے شخص کے دماغ میں سانس کے ذریعے داخل ہو جاتا ہے جس سے شکار بننے والا شخص شروع شروع میں بہکی بہکی باتیں کرتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ پاگل ہو جاتا ہے۔
گھریلو ناچاقی، کاروباری بندش اور اس قسم کے دیگر کاموں کےلئے ہندو جادوگر، چتاکی راکھ استعمال کرتے ہیں۔ سفلی عامل چتاکی راکھ پر شیطانی منتر پڑھتے ہیں۔ یہ راکھ جس دکان کے سامنے ڈال دی جائے اس کا کاروبار تباہ ہو جاتا ہے۔اسی طرح جس گھر کی دہلیز پر یہ راکھ بکھیر دی جائے وہاں ناچاقی شروع ہو جاتی ہے۔ اسی طرح سفلی کا ایک مخصوص عمل ”چوکی“ بھی ہے جس کیلئے عامل ایک کمرے میں بیٹھ کر سات چراغ، دیسی گھی جلاتا ہے اور ان میں سیندور اور دیگر اجزا ڈال کر منتر پڑھتا رہتا ہے۔ چوکی کا یہ عمل تین دن ، دس دن اور 15 دن کا ہوتا ہے۔ اس عمل سے بھی کسی کی بربادیکا کام لیا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق سفلی جادو جتنا بھی خطرناک ہو اس کی کاٹ روحانی طریقوں سے ممکن ہے۔ جبکہ صفائی ستھرائی کا خیال رکھنے والے اور دین پر سختی سے کاربند رہنے والے افراد کو نشانہ بنانا مشکل ہوتا ہے۔
دریں اثنا کالے جادو کے حوالے سے پہلی قسط19اگست2025 بروزبدھ جبکہ دوسری قسط 20اگست 2025،تیسری قسط 22اگست ،چوتھی قسط 24اگست ،پانچویں قسط 25اگست کوناظرین کی خدمت میں پیش کی جاچکی ہیں جن کوwww.cnnurdu.comپروزٹ کیا جاسکتا ہے آج 26اگست 2025بروز منگل اس سلسلے کی چھٹی قسط پیش کی جارہی ہے۔
نوٹ:سی این این اردوڈاٹ کام کا لکھاری اور نیچے دیئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔



