بلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکالم

پاکستان کی سب سے بڑی مالی بے ضابطگیاں 2023-24 کی آڈٹ رپورٹ نے سب کو چونکا دیا

عاطف عارف

پاکستان کی 78 سالہ تاریخ میں کرپشن، مالی بے ضابطگیوں اور حکومتی بدانتظامی کی کہانیاں نئی نہیں۔ لیکن سال 2023 اور 2024 کی آڈٹ رپورٹ نے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق 3 لاکھ 75 ہزار ارب روپے کی بے ضابطگیاں سامنے آئیں، جو کہ ملک کے موجودہ بجٹ سے تقریباً 25 فیصد زیادہ اور مجموعی ملکی پیداوار (GDP) کے 3 سے 4 فیصد کے برابر ہیں۔ یہ صرف ایک مالی اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی، معیشت اور گورننس کے مستقبل کا سوال ہے۔
بے ضابطگیوں کا حجم۔ ایک حیران کن حقیقت
375,000 ارب روپے کا مطلب سمجھنے کے لیے یہ تصور کریں:
یہ رقم پاکستان کے کئی سالوں کے مجموعی ترقیاتی بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔
اس سے ملک میں درجنوں ڈیم، ہزاروں اسپتال، لاکھوں اسکول اور انفراسٹرکچر کے بڑے منصوبے مکمل کیے جا سکتے تھے۔یہ وہ رقم ہے جو پاکستان کے سالانہ دفاعی بجٹ اور ترقیاتی بجٹ کے ملاپ سے بھی زیادہ ہے۔یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ اگر یہ رقم درست جگہ پر خرچ نہیں ہوئی تو گئی کہاں؟
پارلیمنٹ اور آڈٹ رپورٹ۔ شفافیت پر سوالیہ نشان
رپورٹ کے مطابق اس کو براہ راست پارلیمنٹ میں پیش کرنے کے بجائے اس میں "ترمیم” کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس سے دو اہم سوالات پیدا ہوتے ہیں:
1. اگر رپورٹ درست ہے تو اس میں ترمیم کی ضرورت کیوں؟
2. اگر رپورٹ میں خامیاں ہیں تو آڈیٹر جنرل کا نظام اتنا کمزور کیوں ہے کہ اتنے بڑے فرق کے باوجود شفافیت قائم نہ رکھ سکا؟
یہ پہلی بار نہیں کہ آڈٹ رپورٹ کو دبانے یا اس میں ردوبدل کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ماضی میں بھی ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ بڑے مالیاتی اسکینڈل عوام کی نظروں سے اوجھل رکھنے کی کوشش کی گئی۔
کرپشن یا نظام کی ناکامی؟
اتنی بڑی مالی بے ضابطگیاں صرف بدعنوانی نہیں بلکہ نظام کے مکمل انہدام کا پتہ دیتی ہیں۔ اگر یہ رقم کرپشن کی نذر ہوئی تو:
ذمہ دار کون ہیں؟
کس نے نگرانی کرنی تھی؟
اور اب تک ان کے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟
اگر یہ اکاؤنٹنگ کی محض بے ضابطگیاں ہیں تو نظام کو درست کرنے کے لیے سنجیدہ اصلاحات کیوں نہیں کی جاتیں؟ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ریاستی ادارے نہ صرف ناکام ہو چکے ہیں بلکہ جواب دہی کے خوف سے بھی آزاد ہیں۔
عوامی اثرات – بوجھ کس پر پڑے گا؟
اس نقصان کا سب سے بڑا اثر عوام پر پڑتا ہے۔ کیونکہ:
مہنگائی میں اضافہ اسی بدانتظامی کا نتیجہ ہے۔
بیرونی قرضے بڑھ رہے ہیں اور سود کی ادائیگیاں قومی بجٹ کو کھا رہی ہیں۔
صحت، تعلیم اور روزگار کے منصوبے متاثر ہو رہے ہیں۔
ترقیاتی اسکیمیں کاغذی حد تک محدود رہ گئی ہیں جبکہ حقیقت میں عوام کے لیے کچھ نہیں۔
حل اور تجاویز
اس صورتحال سے نکلنے کے لیے چند اہم اقدامات فوری کرنے کی ضرورت ہے:
1. شفافیت کو یقینی بنایا جائے
آڈٹ رپورٹس کو عوام کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ حقائق چھپائے نہ جا سکیں۔
2. پارلیمانی احتساب کمیٹیوں کو بااختیار بنایا جائے
کمیٹیوں میں اپوزیشن اور ماہرین معاشیات کو بھی شامل کیا جائے تاکہ جانبداری کم ہو۔
3. ڈیجیٹل فنانشل مانیٹرنگ سسٹم کا نفاذ
مالیاتی ریکارڈ کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے محفوظ اور قابلِ نگرانی بنایا جائے۔
4. ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی
صرف رپورٹ بنانا کافی نہیں؛ اس پر عمل درآمد اور سزا ضروری ہے۔
پاکستان کی معیشت پہلے ہی قرضوں اور مالی دباؤ کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ ایسے میں 375,000 ارب روپے کی بے ضابطگیاں قومی بقا کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ یہ وقت ہے کہ حکومت، عدلیہ، فوج اور عوامی نمائندے مل کر ایسا نظام بنائیں جو مالیاتی شفافیت کو یقینی بنائے۔ ورنہ تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button