پاکستان کی آئینی سیاست کا منظرنامہ ہمیشہ سے تضادات، مفادات اور اقتدار کی کشمکش سے بھرا رہا ہے، مگر 27ویں آئینی ترمیم نے اس تاریخ میں جو دراڑ ڈالی ہے، وہ محض ایک ترمیم نہیں بلکہ آئینی ڈھانچے کے بنیادی توازن کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ یہ ترمیم ایک ایسا موڑ ہے جہاں ریاستی اداروں کی باہمی ہم آہنگی متزلزل ہو رہی ہے اور جمہوری سفر ایک غیر یقینی سمت اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے۔
ترمیم کے تحت وفاقی آئینی عدالت کا قیام بظاہر ایک اصلاحی اقدام دکھائی دیتا ہے، مگر حقیقت میں یہ سپریم کورٹ جیسے آئینی ستون کے اختیار میں ایسی مداخلت ہے جو عدلیہ کی صدیوں پرانی روایتی آزادی کو کمزور کرتی ہے۔ سپریم کورٹ کی آئینی تشریح کے تاریخی حق کو محدود کرنا عدلیہ کی ریڑھ کی ہڈی توڑنے کے مترادف ہے۔ جس ادارے نے ہمیشہ آئین کا محافظ بن کر کردار ادا کیا، اسی کی طاقت گھٹانا دراصل آئین کی روح کو بے اثر کرنے کی کوشش ہے۔
ترمیم کا دوسرا اور سب سے خطرناک پہلو وہ عسکری ڈھانچہ ہے جس میں ایک نئے منصب کمانڈر آف ڈیفینس فورسز کو قائم کیا گیا ہے۔ یہ منصب عسکری اداروں کے درمیان طاقت کے ایک نئے محور کو جنم دیتا ہے، جس کے باعث آئینی توازن ایک جانب جھک جاتا ہے۔ مزید یہ کہ آرمی چیف کو تاحیات قانونی استثنیٰ فراہم کرنا ریاستی احتساب کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کرنے کے مترادف ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں طاقت قانون سے بلند ہو جائے، وہاں انصاف کا تصور محض کتابوں تک محدود رہ جاتا ہے۔
عدلیہ کے اندرونی ڈھانچے میں کی جانے والی تبدیلیاں بھی کم تشویشناک نہیں۔ جوڈیشل کمیشن، سپریم جوڈیشل کونسل اور عدالتی کمیٹیوں کی ازسرنو تشکیل نے یہ خدشہ جنم دیا ہے کہ ججوں کی تقرری میں سیاسی مداخلت اب ایک باقاعدہ راستہ اختیار کر سکتی ہے۔ ایسا عدالتی نظام جہاں تقرریاں میرٹ کے بجائے مفادات کے تابع ہوں، وہاں انصاف کی بلند عمارت خود بخود لرزنے لگتی ہے۔
یہ ترمیم بنیادی انسانی حقوق کے مستقبل پر بھی سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔ عدلیہ کی کمزوری ہمیشہ شہری حقوق کی پامالی پر منتج ہوتی ہے۔ جب عدالت آزاد نہ رہے، تو آزادیِ اظہار، شفافیت اور قانونی تحفظ محض کاغذی الفاظ بن جاتے ہیں۔ عوام اپنے ہی حقوق کے دروازے پر کھڑے رہ جاتے ہیں اور ریاستی طاقت اُن کے سروں پر سایہ بن کر چھا جاتی ہے۔
مزید برآں ریاستی اداروں کے مابین طاقت کے اس غیر متوازن ماحول میں سیاسی عدم استحکام ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اس ترمیم نے جس قسم کی آئینی بدنظمی کو جنم دیا ہے، وہ مستقبل کے لامتناہی بحرانوں کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔ پارلیمان، عدلیہ اور عسکری اداروں کے درمیان جو باریک توازن آئین نے قائم کیا تھا، وہ اب خشتِ اول کی طرح ہلتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔
سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ ترمیم آئین کی اس بنیادی روح کو زخمی کرتی ہے جو توازنِ اقتدار، جوابدہی اور شہری آزادیوں کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ اگر آئین طاقتور طبقات کے مفاد میں ڈھالا جانے لگے، تو پھر یہ قوم کی اجتماعی امانت نہیں رہتی بلکہ چند ہاتھوں کا آلہ کار بن جاتی ہے۔
اگر اس ترمیم کا خالص آئینی زاویے سے جائزہ لیا جائے تو یہ کئی حوالوں سے آئینِ پاکستان کی بنیادی ساخت (Basic Structure) سے متصادم نظر آتی ہے۔ اگرچہ آئین میں یہ اصطلاح لفظ بہ لفظ درج نہیں، مگر سپریم کورٹ اپنے متعدد تاریخی فیصلوں خصوصاً ظفر علی شاہ کیس (2000)، 2015 مسلم لیگ بمقابلہ فیڈریشن کیس اور آرٹیکل 175 کی عدالتی تشریح پر مبنی مقدمات ۔ میں یہ قرار دے چکی ہے کہ پارلیمان کو ترمیم کا اختیار تو ہے، مگر وہ آئین کی بنیادی اسکیم تبدیل نہیں کر سکتی۔
خصوصاً یہ آرٹیکل 175، 184(3)، 190، 243، 245 اور آئینی اسکیم میں طے شدہ اختیارات کے بامقابلہ توازن سے متصادم نظر آتی ہے۔ آئین کے مطابق سپریم کورٹ ملک کی آخری اور اعلیٰ ترین آئینی اتھارٹی ہے، جبکہ عسکری ادارے آئین کی بالا دستی کے تحت حکومت کے تابع ہیں۔ ان اصولوں میں تبدیلی آئینی توازن میں ایسی دراڑیں ڈالتی ہے جو آئین کے بنیادی فلسفے کو ہی چیلنج کر دیتی ہیں۔
ریاستی اداروں کے مابین طاقت کے اس بگڑتے ہوئے توازن کے نتیجے میں سیاسی عدم استحکام ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اس ترمیم نے جس طرح کی آئینی بدنظمی کو جنم دیا ہے، اس کے اثرات مستقبل کے لامتناہی بحرانوں کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔ آئین نے پارلیمان، عدلیہ اور عسکری اداروں کے درمیان جو باریک مگر مضبوط توازن قائم کیا تھا، وہ اب خشتِ اول کی طرح لرزتا محسوس ہو رہا ہے۔
سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ ترمیم آئین کی اس بنیادی روح کو زخمی کرتی ہے جو توازنِ اقتدار، جوابدہی اور شہری آزادیوں کی محافظ ہے۔ جب آئین طاقتور طبقات کی خواہشات کے مطابق ڈھلنے لگے، تو وہ قوم کی اجتماعی امانت رہنے کے بجائے چند قوتوں کا آلہ کار بن جاتا ہے۔
یہاں یہ سوال پوری شدت سے سامنے کھڑا ہے کہ کیا پاکستان اس سمت میں آگے بڑھ رہا ہے جہاں آئین کمزور اور طاقتور مزید طاقتور ہو جائیں؟
کیا ہم ایک ایسے مستقبل کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں انصاف کمزور، جمہوریت بے معنی اور عوامی حقوق غیر محفوظ ہو جائیں؟
ستائیسویں آئینی ترمیم محض ایک ترمیم نہیں۔یہ ایک خطرے کی گھنٹی ہے، ایک تنبیہ ہے، ایک آئینی بین السطور چیخ ہے کہ اگر وقت رہتے ہوش میں نہ آئے، تو آنے والی نسلیں ایک ایسے پاکستان میں جنم لیں گی جہاں آئین تو ہوگا، مگر اس کی روح نہیں۔



