کراچی ( ویب ڈیسک) کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 6میں فلیٹ میں مردہ پائی گئی اداکارہ و ماڈل حمیرا اصغر کے بھائی نے بہن کی میت وصول کرلی ہے۔ حمیرا اصغر کے بھائی نوید اصغر اور بہنوئی لاش لینے کے لیے ایس ایس پی سائوتھ کے دفتر پہنچے جہاں لاش کی حوالگی کے لیے قانونی کارروائی مکمل کی گئی۔ بعد ازاں حمیرا اصغر کے بھائی اور دیگر ریسکیو ادارے کے سرد خانے پہنچے جہاں میت ان کے حوالے کردی گئی۔
حمیرا اصغر کی لاش ایمبولینس کے ذریعے لاہور روانہ کردی گئی۔ دوسری طرف حمیرا اصغر کی لاش ملنے کے بعد تحقیقات کے نتیجے میں نئی معلومات سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ڈی آئی جی سائوتھ اسد رضا نے کہا ہے کہ لاش 6ماہ پرانی ہے، فلیٹ سے ملے کھانے پینے کے سامان پر ایکسپائری تاریخ 2024کی ہے جبکہ اداکارہ کے فون ریکارڈ میں بھی آخری میسج آن لائن ٹیکسی ڈرائیور کا اکتوبر 2024ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اداکارہ کے گھر کی بجلی کافی عرصے سے منقطع تھی، حمیرا کا فلیٹ مالک سے آخری رابطہ بھی 2024میں ہوا تھا۔ اسد رضا کا کہنا تھا کہ مزید تفتیش کیلئے پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار ہے، قانونی کارروائی کے بعد لاش سرد خانے منتقل کی گئی ہے۔
حمیرا اصغر کے ساتھ آخری فوٹو شوٹ کرنیوالے سٹائلسٹ دانش مقصود کا کہنا ہے کہ دس ماہ قبل حمیرا اصغر کے ساتھ فوٹو شوٹ کیا تھا جبکہ آخری گفتگو اکتوبر میں واٹس ایپ پر ہوئی تھی۔ دوبارہ کالز کیں جواب نہ آنے پر واٹس ایپ میسج کئے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں تشویش ہوئی تو سوشل میڈیا پبلیکیشن سے بھی رابطہ کرکے اداکارہ کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ لیکن شاید ان سب کو لگا کہ یہ کوئی بڑی بات نہیں اور کسی نے توجہ نہ دی۔ دریں اثنا اداکارہ حمیرا اصغر کی موت کو قتل قرار دیتے ہوئے شاہ زیب سہیل نامی شہری نے اندراج مقدمہ کیلئے عدالت سے رجوع کرلیا۔ مقدمہ درج کرانے کیلئے سٹی کورٹ میں درخواست دائر کردی گئی ہے۔
حمیرا اصغر



