پاکستانتازہ ترینسپورٹسکالم

کرکٹ کا جنازہ۔۔۔

حسنین جمیل

یوں تو عہد محسن نقوی میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے شکستوں کی ایک نئی تاریخ مرتب کی ہے جس میں ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں امریکہ کے ہاتھوں تاریخی شکست اور پھر بنگلہ دیش سے ہوم ٹیسٹ سیریز میں ذلت آمیز وائٹ واش نمایاں ترین ہیں،محسن نقوی جو طاقتوروں کے لاڈلے ہیں انکو کرکٹ کی قاف کا بھی نہیں پتہ تھا مگر انکو بطور نگران وزیر اعلیٰ پنجاب خدمات کے اعتراف میں وزارت داخلہ کے ساتھ ساتھ کرکٹ بورڈ کی چیئرمین شپ انعام کے طور پر دی گئی تھی۔

محسن نقوی نے ایسے عجیب و غریب فیصلے کئے کہ بے اختیار انکے لانے والوں پر چار حرف بھیجنے کو دل کرنے لگا پاکستان کی کرکٹ تاریخ میں پہلی بار ایسی سلیکشن کمیٹی بنائی گئی جس کا کوئی چیئرمین نہیں تھا پھر اس میں ایک امپائر علیم ڈار کو رکھا گیا ، آج تک دنیا کی کسی کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی میں امپائر نہیں ہوتا ، خیر یہ ستم بھی ہم نے برداشت کر لیا اب محسن نقوی اور انکی ٹیم سمیر احمد عامر میر وغیرہ جن کا کرکٹ سے اتنا ہی واسطہ ہے جس قدر گاندھی جی کا سینما سے تھا دو ایسے مضحکہ خیز فیصلے کئے کئے ہیں کہ دل کرتا ہے باقاعدہ کرکٹ بورڈ کے دفتر کے باہر ماتمی جلوس نکالا جائے۔

پہلے ڈومسیٹک کرکٹ کو تبدیل کر دیا گیا قائد اعظم ٹرافی کی ٹیموں کی تعداد 18 سے کم کر کے 8 کردی گئی جس میں کئی بار کی چیمئپن ٹیم کراچی کو شامل نہیں کیا گیا یہ فیصلہ جنید ضیا اور خرم نیازی نے کیا کراچی دشمنی کرکٹ بورڈ میں ہمیشہ رہی ہے کراچی کے کھلاڑیوں سے امتیازی سلوک ہمیشہ ہوتا رہا ہے مگر کراچی کی ٹیم کو سب سے بڑے ڈومسیٹک کرکٹ ٹورنامنٹ سے نکال دنیا ایک لگ ہی کہانی ہے

جو ٹیم 21 بار قائد اعظم ٹرافی جیت چکی ہو ، اس کے بعد دورہ بنگلہ دیش کی ٹیم کا اعلان ہوا اس سے پہلے یہ دیکھیں کہ بنگلہ دیش نے پاکستان آنا تھا جہاں 3 ون ڈے 3 ٹی ٹونٹی کھیلنے تھے اس کرکٹ کی قاف سے لاعلم کرکٹ بورڈ نے پہلے 3 ون ڈے ختم کئے پھر صرف 3 ٹی ٹونٹی میچ کھیلنے بنگلہ دیش جانے کو تیار ہو گئے اور سکواڈ کا اعلان کس نے کیا سمیر احمد اور عامر میر نے جنہوں نے شاید کبھی کرکٹ کا بیٹ ہی نہیں پکڑا ہو گا ،سلیکشن کمیٹی اسد شفیق اظہر علی کہاں ہیں وہ کیوں نہیں ٹیم کا اعلان کرنے آئے سمیر احمد اور عامر میر کس حیثیت سے قومی ٹیم کے سکواڈ کا اعلان کر رہے ہیں ؟، حرف آخر یہ عہد محسن نقوی ہے یہاں کرکٹ کا جنازہ ہے زرا دھوم سے نکلے۔

نوٹ:سی این این اردوڈاٹ کام کا لکھاری اور نیچے دیئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button