لاہور:(سلمان حسین)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدات سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے متعلق خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں آؤٹ سورس سکولوں، سکول میل پروگرام اور دیگر پراجیکٹس کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں پہلی مرتبہ ڈسپلن، کلاس روم، لیب اور معیار تعلیم کی بنیاد پر ”سکول آف منتھ“ اور بہترین کارکردگی پر”ٹیچرآف دی منتھ“ ایوارڈ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے آن ویل مونٹیسری سکول پراجیکٹ شروع کرنے کے لئے اقدامات کی ہدایت کر دی۔ اجلاس میں سرکاری سکولوں میں پہلی مرتبہ وین/ بس سروس متعارف کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پہلی باقاعدہ سکول بس سروس کے لئے جامع پلان طلب کر لیا۔ صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے متعلق اجلاس کو تفصیلی بریفنگ دی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ پنجاب سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے دنیا کی سب سے بڑی کامیاب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ سرکاری سکول آؤٹ سورس کرنے سے محض16 ماہ میں 13 لاکھ انرولمنٹ بڑھ چکی ہے۔ مزید ساڑھے 10ہزار سکول ایک سال میں آؤٹ سورس ہونگے۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ فیصل آباد سمیت مختلف آؤٹ سورس سکولوں میں اپنی مدد آپ کے تحت بچوں کو دوپہر کا کھانا ملے گا۔ آؤٹ سورس سکولوں میں طلبہ کے لئے 70977 فرنیچر سیٹ مہیا کر دی گئیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پیف، ایجوکیشن ٹیک سکولوں کے پائلٹ پراجیکٹ کا میاب اجراء کر دیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے دیہات میں بھی ایجوکیشن ٹیک سکول شروع کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں ڈیرہ غازی خان، لیہ، لودھراں، بھکر، میانوالی اوربہاولنگر کے اضلاع میں سکول میل پروگرام شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
اس موقع پر بچوں کو دودھ کے علاوہ انرجی بار، بسکٹ اور دیگر اشیاء فراہم کرنے کی تجویز پر غورکیا گیا۔ اجلاس میں پنجاب بھر کے سرکاری سکولوں میں رواں سال کے آخر تک کلاس روم کی تعمیرکا ہدف مقررکر دیا گیا ۔ مریم نواز نے کہا کہ کوالٹی آف ایجوکیشن کے لئے ٹیچر کی معیاری ٹریننگ اشد ضروری ہے۔
وزیراعلیٰ نے مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی 58 ویں برسی پر خراج عقیدت پیش کیا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ بطور خاتون میں محترمہ فاطمہ جناح کو رول ماڈل سمجھتی ہوں۔ محترمہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پنجاب کی بیٹیوں کو بااختیار بنا رہے ہیں ۔وزیراعلیٰ نے اچھرہ میں کمسن بچے پر آوارہ کتوں کے حملے کے واقعہ کا نوٹس لے لیا اور واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی ۔



