پاکستانتازہ ترینکالم

مُردوں نے کب دیکھا،کس نے کندھا دیا

بے لگام/ ستار چوہدری

شیکسپیئر لکھتے ہیں ۔۔۔۔ !!
تم کہتے ہوتمہیں بارش پسند ہے لیکن جب بارش برستی ہے تو تم چھتری کھول لیتےہو۔۔۔
تم کہتے ہو کہ تمہیں سورج پسند ہے لیکن جب سورج چمکتا ہے تو سایہ ڈھونڈ تے ہو۔۔
تم کہتے ہو تمہیں ہوا پسند ہے لیکن جب ہوا چلتی ہے تو تم اپنی کھڑکیاں بند کرلیتے ہو۔۔۔
اس لئےمجھے ڈرلگتا ہے۔۔۔!!
کیونکہ تم یہ بھی کہتے ہو کہ تم مجھے پسند کرتے ہو۔۔۔
شکیل بدایونی۔۔۔!!
مرے داغ دل سے ہے روشنی، یہی روشنی مری زندگی
مجھے ڈر ہے اے مرے چارہ گر، یہ چراغ تو ہی بجھا نہ دے ۔۔۔
’’ ڈر ‘‘ ۔۔۔ کوئی ہے جو ڈر نہیں رہا۔۔۔۔ ؟ عاشق کومحبوبہ سے ایک نہیں،سیکڑوں ڈر ہیں، بیوی کو شوہر سے،شوہر کو بیوی سے ڈرلگتا ہے، بہن،بھائی سے،بھائی بہن سے ڈر رہا ہے،بچے والدین سے،والدین بچوں سے ڈررہے ہیں،شاگرد استاد سے ڈرتا ہے،رشتوں سے ڈر لگتا ہے،دوستوں سے ڈرلگتا ہے،ملازم ڈر رہا ہے کہیں اسے نوکری سے نہ نکال دیا جائے،مالک بھی ڈر رہا ہے، کہیں اس کا کاروبار ختم نہ ہوجائے،کھلاڑی بھی ڈرتا ہے،کہیں ٹیم سے نہ نکال دیا جائے۔ہمارے ہاں توعام شہری بھی ڈرتا ہے کہیں اسےپولیس والے اٹھا کر نہ لے جائیں،دکاندار پولیس،سٹی گورنمنٹ،انکم ٹیکس سمیت ہر محکمے سے ڈرتا ہے،مزدور کو مزدوری نہ ملنے کا ڈر،سیٹھ کو دولت کھو جانے کا ڈر،ہر سرکاری ملازم کو اپنے سینئر کا ڈر،دوزخ کا ڈر،شکست کا ڈر،بیماری کا ڈر،موت کا ڈر،امیر بھی ڈر رہا ہے،غریب بھی ڈر رہا ہے،لکھنے اور بولنے والے کو کالے ڈالے کا ڈر،کسی کو مقبولیت ختم ہونے کا ڈر،وزیراعظم کو وزارت عظمیٰ چھن جانے کا ڈر،سپہ سالار کو بغاوت کا ڈر۔۔۔۔
کوئی ہے جو ڈر نہیں رہا ۔۔۔۔؟
بات دن کی نہیں ،اب رات سے ڈر لگتا ہے
گھر ہے کچا میرا،برسات سے ڈر لگتا ہے ۔۔۔
صبح سے شام تک،شام سے صبح تک،ڈر ہر شخص کے اعصاب پر سوار رہتا ہے،آدمی رات کو سوتے سوتے ڈر جاتا ہے،بچے ڈر کر رونے لگتے ہیں،پیدائش سے موت تک ڈرہمارا پیچھا نہیں چھوڑتا۔
جان پہچان سے ڈر لگتا ہے
عہد و پیمان سے ڈر لگتا ہے
اب کوئی نام محبت کا نہ لے
اب گریبان سے ڈر لگتا ہے
خود تو میں کب کا ہوا پتھر کا
دلِ نادان سے ڈر لگتا ہے
گو سمندر سے نکل آیا ہوں
پھر بھی طوفان سے ڈر لگتا ہے
آپ اپنے ہیں، سو میں ڈرتا ہوں
کس کو انجان سے ڈر لگتا ہے
جو نکلتا ہی نہیں، دل سے کبھی
ایسے مہمان سے ڈر لگتا ہے
روز لوٹ آتا ہے جو شام کو گھر
اس پشیمان سے ڈر لگتا ہے
جو اٹھاتا ہے تو میری قسمیں
میری کیا جان سے ڈر لگتا ہے
ہم کو آتی ہے منافع سازی
تیرے نقصان سے ڈر لگتا ہے
چلو جنگل کو ٹھکانہ کر لیں
مجھ کو انسان سے ڈر لگتا ہے
دبنگ تھری میں سوناکشی کا ڈائیلاک بڑامشہور ہوا تھا ’’ تھپڑ سے نہیں صاحب، پیار سے ڈر لگتا ہے ‘‘۔۔۔۔ شاہ رخ کی ایک فلم ’’ ڈر‘‘ بھی ہے۔ ڈر سے موت بھی ہوجاتی ہے، پیر،مولوی وغیرہ ڈرکا دم بھی کرتے ہیں،مائیں بچوں کو ڈر سے بچنے کیلئے آیت الکرسی پڑھنے کو کہتی ہیں۔۔۔۔
ڈر ہے چبا نہ ڈالیں ،کلیجہ نکال کر۔۔۔۔!!
رہتے ہیں میرے شہرمیں ہندہ مزاج لوگ ۔
آخر یہ ڈر ہے کیوں۔۔۔۔؟
لا محدود خواہشات کی کھوکھ سے’’ ڈر ‘‘جنم لیتا ہے۔۔۔ہم لوگ مشینیں بن گئے ہیں،ہمارے پاس تو اتنا بھی وقت نہیں،ڈوبتے ہوئے سورج کا منظردیکھ سکیں،آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر بھاگ رہے ہیں، ہم اپنی محنت سے نہیں،دوسروں کو گرا کر،کچل کر آگے نکلنا چاہتے ہیں ،ہم کسی کا ہاتھ نہیں تھامتے ،بلکہ دوسروں کی ٹانگیں کھینچتے ہیں ۔ہم کسی زندہ انسان کو کندھا نہیں دیتے ،صرف مردوں کو کندھا دیتے ہیں ۔ہم ایک ہی وقت میں حسین (رضی اللہ تعالیٰ عنہہ) سے بھی محبت کرتے ہیں اور یزید سےبھی یارانے ہیں۔ رب کے قانون ہیں،کوئی بھی شخص کسی کو دکھ دیکر کیسے خوش رہ سکتا ہے،آپ چاہیے ملک کے طاقتورترین شخص ہوں،کسی کا آپ نے حق مارا،کسی سے زیادتی کی،کسی کے حقوق چھینے،کسی پر ظلم کیا ہے،یہ ممکن ہی نہیں،آپ ڈر نہ رہے ہوں،آپ پریشان نہ ہوں۔
دنیا میں بہت ساری قومیں ڈر سے نکل چکی ہیں،وہ کیسے ۔۔۔؟ انہوں نے حقیقت کو سمجھ لیا ہے، ہم حقیقت سے بہت دور ہیں،در اصل ہم اپنے اعمال سے ڈرتے ہیں،اگر ہر شخص اپنی حدود میں رہتے ہوئے اپنے فرائض پورے کرے تو ڈر کیسا ۔۔۔؟
ہمارا کام صرف محنت کرنا، وہ بھی ایمانداری سے،نتائج ہم نہیں دے سکتے،نتائج اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں، اس کو سبب پیدا کرنے آتے ہیں۔حقیقت یہی ہے،جو ہمیں ملنا ہے،وہ کوئی چھین نہیں سکتا،جو نہیں ملنا،وہ کوئی دے نہیں سکتا۔
بس یہی حقیقت ہے،ڈر سے نکلیں،جو ملنا ہے وہ مل ہی جائے گا،انسانوں سے محبت کریں،انسانوں کی بنائی ہوئی چیزوں سے نہیں،ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں،ایک دوسرے کو کندھا دیں،مردوں نے کب دیکھا،انہیں کس کس نےکندھا دیا تھا۔

نوٹ:سی این این اردوڈاٹ کام کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button