بلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاعلاقائی خبریں

لیسکومیں رشوت،کرپشن عام،سرعام بھتہ وصولیاں،خواجہ آصف بھی بلبلا اٹھے،کس چیز کی رسیدیں مانگ لیں؟

لاہور:(بیوروچیف/سید ظہیر نقوی)لیسکو میں رشوت ستانی عروج پرپہنچ گئی وزیرِ دفاع کی سفارش بھی کام نہ آئی، لیسکو اہلکاروں نے ٹرانسفارمر مرمت کے نام پر 80 ہزار بٹور لیے۔

سابق وزیرِ بجلی کے سامنے ہی واردات ڈال دی، خواجہ آصف نے لیسکو پر سنگین الزام عائد کردیئے جبکہ اعلیٰ حکام کی بجائے 3 اہلکار معطل اور مکینک کے خلاف مقدمے کی درخواست دے کر معاملہ رفع دفع کردیا گیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے ایک انتہائی سخت اور مایوس کن بیان میں وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے لیسکو ملازمین کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ان کے گھریلو ملازم کے گاؤں میں ٹرانسفارمر جل گیا تھا، جس پر انہوں نے لیسکو کے ایک سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) کو فون کر کے سفارش کی کہ وہ معاملہ حل کروائیں۔

خواجہ آصف نے بتایا کہ لیسکو ملازمین نے ٹرانسفارمر تو مرمت کر دیا لیکن اس کے عوض 80 ہزار روپے نقد وصول کیے۔ غریب گاؤں والوں نے اپنی مدد آپ کے تحت چندہ جمع کر کے یہ بھاری رقم لیسکو ملازمین کو ادا کی، مگر رقم کی باقاعدہ ادائیگی کے باوجود لیسکو کا عملہ سرکاری رسید دینے سے انکاری ہے۔

وزیرِ دفاع نے لیسکو کے نظام پر طنز کرتے ہوئے کہا”باقی آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں، یہ حال ہے کہ ایک سابق بجلی کا وزیر سفارشی ہو اور موجودہ کابینہ کا رکن بھی ہو، اس کی سفارش پر بھی واردات سے گریز نہیں کیا جاتا تو عام صارف کا کیا حال ہوگا؟”

سی این این اردوڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق لیسکو کا الیکٹریفائیڈ کرپشن نیٹ ورک ہے ٹرانسفارمر کی مرمت کے لیے فی گھرانہ 1 سے 2 ہزار روپے بھتہ وصول کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے ۔لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (LESCO) میں کرپشن اور رشوت ستانی کا جن بے قابو ہو گیا، جہاں عام صارفین تو دور کی بات، ملک کے موجودہ وفاقی وزیرِ دفاع اور سابق وزیرِ بجلی بھی لیسکو ملازمین کے منظم کرپشن نیٹ ورک کے سامنے بے بس نظر آئے۔ وزیرِ دفاع خواجہ آصف کی ذاتی سفارش کے باوجود لیسکو اہلکاروں نے جلنے والے ٹرانسفارمر کی مرمت کے بدلے غریب دیہاڑی داروں سے ہزاروں روپے رشوت بٹور لی اور سرکاری رسید دینے سے بھی صاف انکار کر دیا۔

ذرائع کے مطابق لیسکو میں خراب ٹرانسفارمرز کی مرمت کے نام پر رشوت لینا اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی بلکہ یہ ایک منظم کاروبار بن چکا ہے۔ انویسٹی گیشن کے مطابق لیسکو میں کرپشن کے اعداد و شمار کچھ یوں ہیں،فی گھرانہ بھتہ: ٹرانسفارمر خراب ہونے کی صورت میں لیسکو ملازمین عام طور پر شہریوں سے 1,000 سے 2,000 روپے فی گھرانہ بھتہ وصول کرتے ہیں۔

علاقائی حساب سے رشوت: ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ رشوت کی شرح لیسکو کے مختلف علاقوں (پوش اور دیہی علاقوں) اور ٹرانسفارمر کی کے وی اے (KVA) گنجائش کے حساب سے طے کی جاتی ہے۔

وفاقی وزیر کے کیس میں وصولی: ایک ٹرانسفارمر کے لیے یکمشت 80,000 روپے بٹورے گئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لیسکو کا نچلا عملہ اعلیٰ حکام یا وزراء کے خوف سے بالکل آزاد ہے۔

چیف ایگزیکٹو آفیسر لیسکوانجینئر محمد رمضان بٹ(فائل فوٹو)

لیسکو بورڈ آف ڈائریکٹرز نے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر محمد رمضان بٹ کی 3سال کیلئے تقرری کررکھی ہے جبکہ ان کی کارکردگی پربھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے ۔وزیرِ دفاع کی جانب سے سوشل میڈیا پر لیسکو کی ساکھ کا جنازہ نکالنے کے بعد لیسکو انتظامیہ فوری طور پر حرکت میں آئی۔ لیسکو چیف کی ہدایت پر ابتدائی کارروائی کرتے ہوئے 3 لیسکو اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ مزید برآں، ٹرانسفارمر کی مرمت کے نام پر مبینہ طور پر پیسے وصول کرنے والے نجی/سرکاری مکینک کے خلاف متعلقہ تھانے میں مقدمہ درج کرنے کے لیے پولیس کو درخواست دے دی گئی ہے۔

عوام کا ردعمل
اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر لیسکو کے خلاف صارفین کا شدید غصہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ جب ملک کا وزیرِ دفاع لیسکو مافیا کے سامنے بے بس ہے، تو عام شہری جو روزانہ ان کے دفاتر کے چکر کاٹتے ہیں اور بجلی کے بھاری بل ادا کرنے کے باوجود اندھیروں میں رہنے پر مجبور ہیں، ان کا کوئی پُرسانِ حال نہیں ہے۔ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ صرف چند اہلکاروں کی معطلی کافی نہیں، بلکہ لیسکو میں موجود اس اوور بلنگ اور رشوت ستانی کے مستقل نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑا جائے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button