انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکالم

عالمی بساط پر کھینچی گئی “پیلی لکیریں” اور طاقت کا غرور

عاصم رضا خیالوی

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی طاقتوں کے تصادم کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ مئی 2026 کے تازہ واقعات نے واضح کر دیا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی محض سرحدی تنازعات تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ اب عالمی معاشی مفادات، عسکری برتری، توانائی کی سیاست اور سفارتی بالادستی کی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ جنوبی لبنان میں اسرائیلی پیش قدمی اور دوسری جانب امریکہ و ایران کے درمیان جاری معاشی و جوہری تناؤ دراصل ایک ہی بڑی بساط کے دو مختلف رخ ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب طاقتور ریاستیں اپنے عسکری اور معاشی غلبے کو انصاف کا متبادل سمجھنے لگتی ہیں تو وہ جغرافیوں کو لکیروں، زونز اور حفاظتی پٹیوں میں تقسیم کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ یہی صورتحال آج جنوبی لبنان میں دیکھی جا رہی ہے، جہاں اسرائیل نے اقوامِ متحدہ کی تسلیم شدہ “بلیو لائن” سے ہٹ کر ایک غیر اعلانیہ “ییلو لائن” یا بفر زون قائم کر رکھا ہے۔
حالیہ سفارتی رپورٹس کے مطابق اسرائیلی افواج نے 16 اپریل کے جنگ بندی معاہدے کے بعد بھی جنوبی لبنان میں اپنی عسکری سرگرمیاں جاری رکھیں۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائیاں شمالی اسرائیل کو حزب اللہ کے ممکنہ حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے کی جا رہی ہیں، تاہم لبنانی مؤقف کے مطابق یہ پیش قدمی دراصل بتدریج جغرافیائی دباؤ بڑھانے کی ایک منظم حکمتِ عملی ہے۔ جنوبی لبنان کے کئی دیہات خالی ہو چکے ہیں جبکہ مقامی آبادی مستقل خوف اور نقل مکانی کا شکار ہے۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے قائم کردہ پانچ سے چھ کلومیٹر گہرے غیر رسمی بفر زون نے خطے میں ایک نئی کشیدگی کو جنم دیا ہے۔ دوسری طرف حزب اللہ کی جانب سے ڈرون حملوں اور توپ خانے کے استعمال نے یہ ظاہر کیا ہے کہ جنوبی لبنان اب صرف روایتی جنگ کا میدان نہیں رہا بلکہ یہ جدید غیر متوازن جنگ کی تجربہ گاہ بنتا جا رہا ہے، جہاں چھوٹی مزاحمتی قوتیں بھی بڑی عسکری طاقتوں کو غیر متوقع نقصانات پہنچانے کی صلاحیت حاصل کر چکی ہیں۔

یہ صورتحال ایک قدیم داستان کی یاد دلاتی ہے، جہاں ایک طاقتور بادشاہ اپنے غرور میں چھوٹی ریاستوں کو محض مہرے سمجھتا تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ اس کی فوج، خزانہ اور طاقت اتنی بڑی ہے کہ کوئی اس کے سامنے زیادہ دیر کھڑا نہیں رہ سکتا۔ مگر ایک چھوٹی مگر غیرت مند ریاست نے اس کی ہر دھمکی کے باوجود سر جھکانے سے انکار کر دیا۔ جنگ شروع ہوئی تو بادشاہ کو یقین تھا کہ چند دنوں میں سب ختم ہو جائے گا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس چھوٹی طاقت کی مزاحمت نے نہ صرف اسے تھکا دیا بلکہ آس پاس کی دوسری بڑی طاقتوں کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا۔

وہ آپس میں کہنے لگیں کہ اگر اتنی بڑی فوج اور وسائل رکھنے والا بادشاہ ایک نسبتاً کمزور قوت کے ساتھ طویل جنگ کے بعد مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور ہو سکتا ہے، تو پھر ہم جو دفاعی طور پر اس سے کہیں زیادہ مضبوط ہیں، ہم اس بادشاہ کو بہت لمبا اور مشکل وقت دے سکتے ہیں۔ یہی سوچ عالمی سیاست میں طاقت کے توازن کو بدل دیتی ہے، کیونکہ بعض اوقات جنگیں ہتھیاروں سے کم اور حوصلے، برداشت اور سیاسی استقامت سے زیادہ جیتی جاتی ہیں۔

اس بحران کا دوسرا اور زیادہ خطرناک رخ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری معاشی و عسکری کشمکش ہے۔ فروری 2026 میں امریکی و اسرائیلی مشترکہ فضائی حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت محدود کر کے عالمی طاقتوں کو ایک واضح پیغام دیا کہ اگر تہران پر دباؤ بڑھایا گیا تو عالمی توانائی کی ترسیل بھی محفوظ نہیں رہے گی۔ آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی سپلائی کا اہم ترین راستہ تصور کی جاتی ہے جہاں سے عالمی تیل تجارت کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ ایران کی اس حکمتِ عملی نے نہ صرف عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کی بلکہ مغربی طاقتوں کو بھی یہ احساس دلایا کہ مشرقِ وسطیٰ میں کسی بڑی جنگ کی قیمت صرف خطے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پوری دنیا کی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

امریکہ مسلسل یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے کہ ایران کی یورینیم افزودگی عالمی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے جبکہ تہران اس پروگرام کو اپنے دفاع اور توانائی ضروریات سے جوڑتا ہے۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ اگر معاشی پابندیاں نرم کی جائیں تو بین الاقوامی نگرانی کے دائرے میں مزید تعاون ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ بحران صرف فوجی تصادم نہیں بلکہ سفارتی نفسیات، معاشی دباؤ اور سیاسی بقا کی جنگ بھی بن چکا ہے۔ امریکی صدر Donald Trump کی حالیہ پالیسی نے خود واشنگٹن کے اندر بھی اختلافات پیدا کر دیے ہیں۔ ایک طرف وائٹ ہاؤس ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی اور محدود سفارتی مفاہمت کا اشارہ دے رہا ہے جبکہ دوسری طرف ریپبلکن حلقوں کا ایک طاقتور دھڑا کسی بھی قسم کی نرمی کو امریکی کمزوری تصور کرتا ہے۔

سینیٹر Ted Cruz اور Roger Wicker جیسے رہنما یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ ایران پر دباؤ کم کرنا خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ یہی داخلی تقسیم امریکی پالیسی کو غیر یقینی بنا رہی ہے جہاں بیک وقت مذاکرات اور دباؤ دونوں راستے اختیار کیے جا رہے ہیں۔

مئی 2026 کی صورتحال ایک بنیادی سوال کو دوبارہ زندہ کرتی ہے کہ کیا عالمی امن واقعی انصاف اور برابری سے قائم ہوگا یا صرف طاقت کے توازن سے؟ بڑی طاقتیں اکثر اپنے دفاع کے نام پر کمزور ریاستوں کے گرد نئی “پیلی لکیریں” کھینچتی رہی ہیں۔ کبھی یہ لکیریں بفر زون کہلاتی ہیں، کبھی معاشی پابندیاں اور کبھی سکیورٹی معاہدے، مگر تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ دباؤ سے وقتی خاموشی تو حاصل کی جا سکتی ہے لیکن مستقل استحکام پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ مشرقِ وسطیٰ آج اسی تضاد کا شکار ہے۔

ایک طرف طاقتور ممالک اپنی عسکری برتری برقرار رکھنا چاہتے ہیں جبکہ دوسری طرف علاقائی قوتیں اپنے دفاع، خودمختاری اور بقا کے حق کو تسلیم کروانے کے لیے مزاحمت کر رہی ہیں۔ اگر عالمی سیاست میں انصاف، خودمختاری اور برابری کے اصولوں کو حقیقی معنوں میں جگہ نہ دی گئی تو “پیلی لکیروں” کی یہ سیاست آنے والے برسوں میں مزید بڑے تصادم کو جنم دے سکتی ہے، کیونکہ پائیدار امن بندوق کی نالی سے نہیں بلکہ مساوی احترام، سنجیدہ مذاکرات اور طاقت کے متوازن استعمال سے پیدا ہوتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button