پاکستانتازہ ترینجرم-وسزاصحت

اسلام آبادپولی کلینک ہسپتال میں کروڑوں کی بے ضابطگیاں:آڈٹ رپورٹ

منظوری کے بغیر 50کروڑ کی مقامی خریداری، ڈاکٹر کے نسخے،ڈیمانڈ سلپس بھی موجود نہیں،خریداری غیر مجاز عمل،انتظامیہ نےکوئی جواب جمع نہیں کرایا:آڈٹ حکام،کارروائی کی سفارش

اسلام آباد:(ویب ڈیسک)وفاقی دارالحکومت کے پولی کلینک ہسپتال میں مالی بے ضابطگیوں کا بڑا انکشاف سامنے آیا ہے۔ آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ہسپتال انتظامیہ نے متعلقہ حکام سے منظور شدہ پالیسی کے بغیر مالی سال 2024-25 کے دوران 50 کروڑ 84 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی ادویات اور سرجیکل اشیاء مقامی خریداری (لوکل پرچیز) کے ذریعے حاصل کیں، جبکہ خریداری کے قانونی جواز اور ریکارڈ سے متعلق متعدد سنگین خامیاں بھی سامنے آئی ہیں۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت پولی کلینک ہسپتال (FGPC) کی انتظامیہ نے مالی سال 2024-25 کے دوران ایم/ایس جہانگیر فارمیسی، سولک سنٹر اسلام آباد سے لوکل پرچیز کی بنیاد پر گولیاں، شربت، انجکشن اور سرجیکل استعمال کی مختلف اشیاء خریدنے پر 50 کروڑ 84 لاکھ 157 روپے خرچ کیے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنرل فنانشل رولز (GFR) جلد اول کے پیرا 11 کے مطابق ہر محکمے کا سربراہ مالی نظم و ضبط، کفایت شعاری اور تمام مالی قواعد و ضوابط پر عمل درآمد کا ذمہ دار ہوتا ہے، تاہم اس معاملے میں ان اصولوں کی خلاف ورزی کی گئی۔آڈٹ کے مطابق لوکل پرچیز کے ذریعے ادویات اور سرجیکل اشیاء کی خریداری کے لیے حکومت کی منظور شدہ کوئی پالیسی موجود نہیں تھی۔

اسی طرح ڈاکٹروں یا میڈیکل افسران کی جانب سے جاری کیے گئے وہ نسخے بھی ریکارڈ پر دستیاب نہیں تھے جن پر سٹاک میں دستیاب نہیں کا سرٹیفکیٹ لگا ہو اور جن کی بنیاد پر مقامی خریداری کی گئی۔

رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ ہسپتال کے مختلف وارڈز سے ادویات کی خریداری کے لیے بھیجی جانے والی ریکوزیشن یا ڈیمانڈ سلپس بھی محفوظ نہیں کی گئیں، جبکہ لوکل پرچیز کے ذریعے حاصل کی گئی ادویات اور سرجیکل اشیاء کی وصولی اور اجراء کا مریض وار ریکارڈ بھی دستیاب نہیں، جس سے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ اشیاء کن مریضوں کو فراہم کی گئیں۔

آڈٹ حکام نے اپنی رائے میں قرار دیا ہے کہ منظور شدہ پالیسی کے بغیر لوکل پرچیز کی بنیاد پر ادویات اور سرجیکل اشیاء کی خریداری بے قاعدہ اور غیر مجاز عمل تھا۔رپورٹ کے مطابق آڈٹ کی جانب سے وضاحت طلب کیے جانے کے باوجود رپورٹ کی تکمیل تک ہسپتال انتظامیہ نے کوئی جواب جمع نہیں کرایا۔

آڈٹ نے سفارش کی ہے کہ لوکل پرچیز کے اس طریقہ کار کو فوری طور پر روکا جائے، خریداری سے متعلق مکمل ریکارڈ فراہم کیا جائے، اخراجات کی قانونی حیثیت اور شفافیت کا تعین کیا جائے اور ذمہ داروں کے خلاف قواعد کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button