انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبعلاقائی خبریں

مغلیہ دور کے سید عبدالوہاب المعروف اخون پنجو بابا سے متعلق اہم دستاویزات برآمد

 

پشاور:(ویب ڈیسک)مغلیہ دور کے معروف بزرگ سید عبدالوہاب المعروف اخون پنجو بابا سے متعلق ہم عصر ماخذ کے دستاویزات برآمد ہوگئے ہیں۔ ڈائیریکٹریٹ آف آرکائیوز، پشاور نے خطاطی، سیاہی اور کاغذات کا جائزہ لے کر ان قلمی نسخوں کو مستند قرار دے دیا ہے۔

ڈائریکٹریٹ کے چیف لائبریرین ڈاکٹر محمد اشفاق احمد نے بتایا کہ خطاطی، سیاہی و کاغذ و انداز سے واضح ہے یہ اصل قلمی نسخہ ہے۔ ان کے مطابق نئی ملنے والی اس دستاویزات میں سید عبدالوہاب کے خاندان کا سیاسی وجوہات کی وجہ سے ہندوستان سے صوابی ہجرت اور بعد میں اکبر پورہ، جہاں اپ کا مزار واقع ہے، میں رہائش سے متعلق اہم معلومات درج ہیں۔

دستاویزات میں ان کے خاندانی پس منظر پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ دستاویزات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اخون پنجو بابا کی جائے پیدائش صوابی میں واقع ہے۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق ویں صدی میں اپ کے مشہور مرید میاں علی خان، شیر پاو، نے مناقب شیخ عبدالوہاب کے نام سے اپ کی سوانح عمری فارسی زبان میں قلم بند کی تھی۔

میاں علی نے کافی عرصہ آپ کے قریب اکبر پورہ میں گزارا تھا اور وہی ان کا وصال بھی ہوا تھا۔ مناقب شیخ عبدالوہاب کو ملا خاکی نے میں فارسی میں منظوم کیا اور دو صدیا پہلے میاں بادشاہ نے اس کو پشتو میں منظوم کیا تھا۔

یہ تینوں قلمی نسخے اکبر پورہ میں پڑھے اور سنائے جاتے رہے۔مختلف تصنیفات میں بھی ان تینوں نسخوں کا حوالہ ملتا ہے۔ میاں بادشاہ کا قلمی نسخہ حال ہی میں ایک خاندان کی ذاتی مجموعے سے ملا ہے۔ اکبر پورہ کے ایک بزرگ کا کہنا ہے، مناقب شیخ عبدالوہاب بھی در اصل نا پید نہیں ہوا، لیکن فارسی نسخوں میں تلاش کرنا پڑیگا۔

ماہرین کے مطابق چونکہ ان نسخوں کی اسناد تاریخی طور پر ثابت ہیں اور فارسی مناقب سے باربار موازنہ بھی ہوچکا ہے، اس لئے یہ اصل ماخذ تصور کئے جائیں گے۔ آئین اکبری میں بھی ابولفضل نے سید عبدالوہاب(ولادت ، وصال)پنجو سنبھلی کے نام سے کیا ہے۔

 

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button