انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکالم

دیواروں کی خوبصورتی یا انسانی زندگی ضروری؟

عاصم رضاخیالوی

چند روز قبل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو دیکھی۔ چند این جی اوز کے کارکن سڑکوں پر بیٹھے ایسے لوگوں کو اٹھا رہے تھے جن کی حالت نشے، غربت اور بے بسی نے بگاڑ دی تھی۔ کپڑے گندے، بال الجھے ہوئے، دانت میلے اور پاؤں ایسے پھٹے ہوئے جیسے شاید برسوں جوتا پہننے کا موقع ہی نہ ملا ہو۔
پھر وہ انہیں غسل کرواتے ہیں، بال کاٹتے ہیں، شیو کرتے ہیں اور نئے کپڑے پہنا دیتے ہیں۔ کچھ ہی دیر میں وہی شخص ایک صاف ستھری اور باوقار شخصیت بن جاتا ہے۔ اس کی ویڈیو بنائی جاتی ہے، سوشل میڈیا پر ڈال دی جاتی ہے اور لوگ خوش ہو جاتے ہیں کہ ایک انسان کو نئی زندگی مل گئی۔مگر اس منظر کو دیکھ کر میرے ذہن میں ایک سوال پیدا ہوا:کیا یہ واقعی نئی زندگی ہے یا صرف ایک دن کا دولہا؟کیونکہ ویڈیو ختم ہونے کے بعد اس انسان کا کیا ہوتا ہے، کوئی نہیں جانتا۔ کیا اس کے نشے کا مستقل علاج ہوتا ہے؟ کیا اسے روزگار ملتا ہے؟ کیا اس کے رہنے کا بندوبست کیا جاتا ہے؟ یا وہ اگلے دن پھر اسی سڑک کے کنارے اسی حالت میں بیٹھا ہوتا ہے؟
یہی سوال مجھے ہمارے شہروں کی ترقی کے ماڈل کے بارے میں بھی سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔

ان دنوں لاہور میں سڑکوں کے کنارے خوبصورت دیواریں بنائی جا رہی ہیں، گھروں کے فرنٹ پینٹ کیے جا رہے ہیں، فٹ پاتھوں کو خوبصورت بنایا جا رہا ہے تاکہ باہر سے آنے والے لوگ یہ دیکھیں کہ لاہور ایک جدید اور خوبصورت شہر ہے۔یہ کوشش یقیناً قابل تعریف ہے۔مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا صرف دیواروں کو خوبصورت بنا دینے سے شہر خوبصورت ہو جاتا ہے؟

لاہور کا علاقہ بادامی باغ شمالی لاہور کا ایک گنجان آباد علاقہ ہے۔ تاریخ کے اعتبار سے بھی یہ علاقہ لاہور کے معاشی اور سماجی ڈھانچے میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ ٹرانسپورٹ، تجارت اور محنت کش طبقے کی بڑی تعداد اسی خطے میں آباد ہے۔سیاسی طور پر بھی یہ علاقہ انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ یہاں سے موجودہ وزیراعظم شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے۔ عوام نے انہیں اپنے مسائل کے حل کی امید کے ساتھ منتخب کیا۔مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ انتخاب جیتنے کے بعد شاید انہیں بھی یہ خبر نہیں کہ ان کے اپنے حلقے میں بعض مقامی انتظامی فیصلے کس طرح عوامی مفاد کے خلاف جا رہے ہیں۔

بادامی باغ پھاٹک کے قریب ایک بڑا پل موجود ہے۔ اس پل کے نیچے وسیع خالی جگہ ہے۔ برسوں تک وہاں جانور باندھے جاتے رہے، کچرا پھینکا جاتا رہا اور بعض لوگوں نے ناجائز قبضے کر کے اسے اپنے ذاتی استعمال میں لے لیا۔اب جب حکومت نے وہاں سے جانور ہٹا کر جگہ خالی کروائی تو عوام کو امید پیدا ہوئی کہ شاید یہاں بچوں کے لیے کھیل کا میدان، کوئی پارک یا سبزہ زار بنایا جائے گا۔مگر اطلاعات یہ ہیں کہ اس جگہ کو پارکنگ اسٹینڈ بنانے کے لیے ٹھیکیدار کو لیز پر دینے کی تیاری ہو رہی ہے۔

اگر ایسا ہوا تو یہ علاقے کے لوگوں کے ساتھ ایک اور ناانصافی ہوگی۔ کیونکہ پہلے ہی یہ علاقہ ٹریفک، دھوئیں اور آلودگی سے متاثر ہے۔ مزید گاڑیوں کی پارکنگ اس ماحول کو اور خراب کر دے گی۔حقیقت یہ ہے کہ شہر کی منصوبہ بندی صرف سڑکیں اور دیواریں بنانے سے نہیں ہوتی۔ شہر اس وقت زندہ اور خوبصورت بنتا ہے جب وہاں رہنے والے انسانوں کی زندگی بہتر ہو۔

اگر حکومت چاہے تو انہی پلوں کے نیچے موجود خالی جگہوں کو عوام کے لیے ایک مثالی منصوبے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ وہاں پودوں کی نرسریاں قائم کی جا سکتی ہیں، چھوٹے چھوٹے پارک بنائے جا سکتے ہیں، بچوں کے لیے پلے گراؤنڈز بنائے جا سکتے ہیں اور غریب لوگوں کے لیے ڈسپنسریاں قائم کی جا سکتی ہیں۔ایک خوبصورت گرین بیلٹ بنائی جا سکتی ہے جہاں اہلِ علاقہ اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ سکیں، شام گزار سکیں اور صاف ماحول میں سانس لے سکیں۔

آج جو چھوٹے چھوٹے پارک بڑی سڑکوں کے فٹ پاتھوں پر بنائے جا رہے ہیں، وہ بلاشبہ خوبصورت نظر آتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جہاں ہر وقت بڑے ٹرک، لوڈرز اور تیز رفتار ٹریفک گزرتی ہو وہاں خاندان اپنے بچوں کے ساتھ سکون سے بیٹھ نہیں سکتے۔اس کے مقابلے میں پلوں کے نیچے موجود یہ وسیع جگہیں محفوظ، پرسکون اور عوامی فلاح کے لیے کہیں زیادہ موزوں ہیں۔بادامی باغ اور شمالی لاہور کے لاکھوں لوگوں کے لیے اگر یہ جگہیں سبز پارکوں، پلے گراؤنڈز اور چھوٹی ڈسپنسریوں میں تبدیل ہو جائیں تو یہ صرف ایک منصوبہ نہیں بلکہ ایک سماجی انقلاب ثابت ہو سکتا ہے۔

یہی اصل ترقی ہوگی۔یہی اصل خوبصورتی ہوگی۔ورنہ اگر ہم صرف دیواروں کو رنگتے رہیں اور انسانوں کی زندگی کو نظر انداز کریں تو یہ ترقی بھی اسی ویڈیو کی طرح ہوگی جہاں ایک بے حال انسان کو ایک دن کے لیے دولہا بنا کر چھوڑ دیا جاتا ہے، مگر اس کی اصل زندگی کبھی نہیں بدلتی اور شاید شہر کی اصل خوبصورتی دیواروں میں نہیں،بلکہ ان لوگوں کے چہروں میں ہوتی ہے جو ان دیواروں کے پیچھے زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button