لاہور (زبیر اسلم خان) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ ملک میں لسانی گروہ سر اٹھا رہے ہیں اور ریاستی اداروں کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر اور بلوچستان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور جماعت اسلامی ان معاملات پر خاموش نہیں رہ سکتی۔
لاہور میں امیر جماعت اسلامی کی زیر صدارت مرکزی مجلس شوریٰ کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک بھر سے مرد و خواتین اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی لہر، مہنگائی اور قومی سلامتی کے امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔
دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت
حافظ نعیم الرحمان نے افغان حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بھی افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے اور مشترکہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کرنے چاہییں۔
آزاد کشمیر اور بلوچستان کی صورتحال پر تشویش
انہوں نے آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے روایتی سیاست کو غیر مؤثر بنا دیا ہے، جبکہ اسمبلی میں راتوں رات تبدیلیاں کرکے اکثریت کو وزیر اور مشیر بنا دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسائل کا حل تشدد نہیں بلکہ مذاکرات اور سیاسی مفاہمت میں ہے۔
بلوچستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہاں کے حالات انتہائی خراب ہیں اور جماعت اسلامی اس صورتحال پر خاموش تماشائی نہیں بن سکتی۔
مہنگائی پر شدید تنقید
مرکزی مجلس شوریٰ نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ تیل، بجلی اور گیس عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکے ہیں اور حکومت کو فوری ریلیف فراہم کرنا چاہیے۔
جماعت اسلامی کی انتخابی تیاری
امیر جماعت اسلامی نے ہدایت کی کہ جماعت کو ہر سطح پر اپنی عوامی رسائی اور تنظیمی اثر و رسوخ بڑھانا ہوگا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی آئندہ ماہ ہونے والے کینٹونمنٹ انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی، جبکہ بلدیاتی انتخابات کی تیاری بھی فوری طور پر شروع کی جائے گی۔
فلسطین، ایران اور عالمی صورتحال پر اظہار خیال
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ فلسطینی عوام کی استقامت نے دنیا کو نئی حقیقت دکھائی ہے اور امریکہ و اسرائیل کے ناقابل شکست ہونے کا تاثر ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے بھی مشکل حالات میں اتحاد اور مزاحمت کا مظاہرہ کیا جبکہ ایران میں اندرونی تقسیم سے متعلق پروپیگنڈا غلط ثابت ہوا۔ ان کے مطابق امریکی صدر کے حالیہ اقدامات سے خود امریکہ کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔



