انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبکاروبارکالم

قومیں خرچ سے نہیں پیداوار سے امیر بنتی ہیں

عمران حیدر

دنیا کی ہر قوم، ہر خاندان اور ہر کاروبار ایک بنیادی معاشی حقیقت کا سامنا کرتا ہے،دولت پہلے پیدا کی جاتی ہے، پھر استعمال ہوتی ہے۔ صرف خرچ کرنے سے خوشحالی پیدا نہیں ہوتی بلکہ اشیاء، خدمات، علم، مہارت اور نئی ایجادات کے ذریعے دوسروں کے لیے ویلیو پیدا کرنے سے معاشی ترقی جنم لیتی ہے۔
آج کی عالمی معیشت میں صارفین کے اخراجات کو ترقی کی علامت سمجھا جاتا ہے، جبکہ آسان قرضوں اور کریڈٹ کی دستیابی نے فوری خواہشات پوری کرنے کا رجحان بھی بڑھا دیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی معاشرے کی دیرپا خوشحالی صرف اس وقت ممکن ہے جب اس کی بنیاد پیداوار، محنت، سرمایہ کاری، تعلیم، تحقیق اور اختراع پر ہو۔
وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو اپنی پیداوار میں اضافہ کرتی ہیں، مستقبل پر سرمایہ کاری کرتی ہیں اور موجودہ ضروریات کے ساتھ آنے والی نسلوں کے مفاد کو بھی مدنظر رکھتی ہیں۔
معاشیات کا بنیادی اصول ہے کہ پیداوار دولت پیدا کرتی ہے۔کسان خوراک اگاتا ہے، مزدور محنت کرتا ہے، انجینئر ٹیکنالوجی تیار کرتا ہے، صنعت کار مصنوعات بناتا ہے، تاجر تجارت کرتا ہے، سائنس دان نئی دریافتیں کرتا ہے اور کاروباری افراد مسائل کا حل پیش کرتے ہیں۔ یہ تمام سرگرمیاں معاشرے میں نئی قدر پیدا کرتی ہیں۔

معیشت کے لیے مصرف ضروری ہے کیونکہ یہی طلب پیدا کرتا ہے، لیکن صِرف خرچ کرنے سے نئی دولت پیدا نہیں ہوتی۔ مستقل معاشی ترقی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب پیداوار، سرمایہ کاری، مہارت اور جدت مسلسل بڑھتی رہے۔

ماہرِ معاشیات ایڈم اسمتھ نے کہا تھاہر قوم کی سالانہ محنت ہی اسکی ضروریات اور آسائشوں کا اصل ذریعہ ہوتی ہے۔صنعتی انقلاب نے یورپ اور امریکہ کی معیشتوں کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ مشینوں، فیکٹریوں اور ٹیکنالوجی نے پیداوار میں بے مثال اضافہ کیا۔دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپان تباہ حال تھا، لیکن تعلیم، صنعت، ٹیکنالوجی اور برآمدات پر توجہ دے کر چند دہائیوں میں دنیا کی بڑی معاشی طاقت بن گیا۔اسی طرح جنوبی کوریا نے تعلیم، تحقیق، الیکٹرانکس، سیمی کنڈکٹرز، جہاز سازی اور آٹوموبائل صنعت میں سرمایہ کاری کرکے غربت سے ترقی یافتہ معیشت تک کا سفر طے کیا۔چین نے بھی صنعت، بنیادی ڈھانچے، عالمی تجارت اورمینوفیکچرنگ کے ذریعےچند دہائیوں میں تاریخ کی تیز ترین معاشی ترقی کی۔

دوسری جانب وہ ممالک جو طویل عرصے تک صرف قرضوں، درآمدات یا غیر پیداواری اخراجات پر انحصار کرتے رہے، انہیں معاشی بحران، قرضوں کے بوجھ اور کمزور ترقی کا سامنا کرنا پڑا۔بین الاقوامی تجارت ہر ملک کے لیے فائدہ مند ہے۔ درآمدات سے صارفین کو بہتر انتخاب اور کاروبار کو نئے مواقع ملتے ہیں۔مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب مقامی صنعتیں کمزور ہونے لگیں، فیکٹریاں بند ہوں، روزگار کے مواقع کم ہوں اور ملک اپنی بنیادی ضروریات کے لیے بھی دوسروں پر انحصار کرنے لگے۔

ایک مضبوط معیشت وہ ہوتی ہے جو عالمی تجارت میں حصہ لیتے ہوئے اپنی مقامی صنعت، زراعت، ٹیکنالوجی اور برآمدات کو بھی مضبوط بنائے۔جس طرح قومیں اپنی آمدنی سے زیادہ خرچ نہیں کر سکتیں، اسی طرح افراد بھی اگر مسلسل اپنی آمدنی سے زیادہ خرچ کریں تو آخرکار قرضوں تلے آ جاتے ہیں۔آج سوشل میڈیا نے دوسروں کو متاثر کرنے کی دوڑ کو مزید تیز کر دیا ہے۔ مہنگی گاڑیاں، برانڈڈ لباس اور پرتعیش طرزِ زندگی اکثر حقیقی خوشحالی کی علامت نہیں ہوتے بلکہ بعض اوقات قرضوں اور مالی دباؤ کا نتیجہ بھی ہوتے ہیں۔

مشہور سرمایہ کار وارن بفیٹ کہتے ہیں”بچت وہ نہیں جو خرچ کرنے کے بعد بچے، بلکہ خرچ وہ کریں جو بچت کے بعد باقی رہے۔”
جدید معاشی اور نفسیاتی تحقیق کے مطابق بہت سے لوگ مالی فیصلے عقل سے زیادہ جذبات، سماجی دباؤ اور دوسروں سے مقابلے کی بنیاد پر کرتے ہیں۔اصل کامیابی مہنگی چیزیں خریدنے میں نہیں بلکہ مالی آزادی، محفوظ مستقبل اور مضبوط کردار میں ہے۔جیسا کہ ماہر معاشیات تھامس سوول کہتے ہیں کہ زندگی میں ہر انتخاب کے ساتھ ایک قیمت اور ایک سمجھوتہ موجود ہوتا ہے۔کوئی بھی حکومت صرف زیادہ خرچ کرکے قوم کو خوشحال نہیں بنا سکتی۔

حقیقی ترقی کے لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ معیاری تعلیم کو فروغ دے،فنی اور پیشہ ورانہ تربیت میں سرمایہ کاری کرے،صنعت اور کاروبار کی حوصلہ افزائی کرے،سائنسی تحقیق اور جدت کو فروغ دے،مضبوط انفراسٹرکچر تعمیر کرے،قانون کی حکمرانی اور شفاف اداروں کو مضبوط بنائے،مالی نظم و ضبط برقرار رکھے،مقامی صنعت اور عالمی تجارت میں متوازن پالیسی اپنائے۔

ہر شخص اپنی معاشی حالت بہتر بنا سکتا ہے اگر وہ آمدنی سے کم خرچ کرے،باقاعدگی سے بچت کرے، دانشمندانہ سرمایہ کاری کرے،نئی مہارتیں حاصل کرے،غیر ضروری قرضوں سے بچے،دولت بنانے پر توجہ دے نہ کہ دولت دکھانے پر ۔

بینجمن فرینکلن نے کہا تھا کہ چھوٹے چھوٹے غیر ضروری اخراجات بھی بڑے جہاز کو ڈبو سکتے ہیں۔دنیا کے تقریباً تمام بڑے مذاہب محنت، دیانت، اعتدال، امانت داری اور ذمہ دارانہ مالی رویے کی تعلیم دیتے ہیں۔اسلام رزقِ حلال، محنت، تجارت، اعتدال، زکوٰۃ اور اسراف سے بچنے کی تلقین کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا کہ”وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ بخل، بلکہ اعتدال اختیار کرتے ہیں۔”اسی طرح عیسائیت، یہودیت، ہندو مت، بدھ مت اور سکھ مت بھی محنت، دیانت داری، اعتدال، سخاوت اور ذمہ دارانہ مالی زندگی کی تعلیم دیتے ہیں۔

پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کیلئے سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ ہم اپنی معیشت کو صرف کھپت پر نہیں بلکہ پیداوار پر استوار کریں۔زراعت، صنعت، برآمدات، ٹیکنالوجی، تعلیم، تحقیق، ہنر مند افرادی قوت اور نوجوانوں کی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری ہی ملک کو معاشی خودمختاری کی طرف لے جا سکتی ہے۔قرض وقتی سہارا دے سکتے ہیں، لیکن مستقل خوشحالی صرف محنت، پیداوار اور بہتر حکمرانی سے حاصل ہوتی ہے۔

ہمیں یاد رکھنا ہو گا کہ پائیدار خوشحالی کبھی اتفاق سے حاصل نہیں ہوتی۔چاہے کوئی فرد ہو، خاندان، کاروبار یا پوری قوم، کامیابی کا راستہ ہمیشہ ایک ہی رہا ہے: قدر پیدا کرنا، محنت کرنا، تعلیم حاصل کرنا، مستقبل پر سرمایہ کاری کرنا اور ذمہ داری کے ساتھ وسائل استعمال کرنا۔

معاشی طاقت کا اصل پیمانہ یہ نہیں کہ ہم کتنا خرچ کرتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم کتنا پیدا کرتے ہیں۔لہٰذا اگر پاکستان کو مضبوط، خودمختار اور خوشحال بنانا ہے تو ہمیں پیداوار، علم، ہنر، دیانت اور محنت کو اپنی قومی ترجیح بنانا ہوگا۔ یہی پائیدار ترقی اور آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل کی حقیقی بنیاد ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button