
"چل باجی جلدی کر دیر ہوگئی تو بڑےصاحب کی گاڑی نکل جائے گی پھر سارا دن کوئی زیادہ کھلونے خریدنے والا گاہک نہیں ملے گا ” گڈو کے یاد دلانے پر ناشتہ کرتی ہوئی نوری جلدی سے چائے کا آخری گھونٹ بھر کر اس کے پیچھے دوڑی ۔انکے سگنل پر پہنچتے ہی بڑے صاحب کی بلیک کار آکر رکی اور دونوں بچوں کے چہروں پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔۔۔
سرمد صاحب جنہیں دونوں بچے بڑے صاحب کہتے تھےایک شفیق اور خدا ترس انسان تھے جنہیں دونوں بچوں سے خاص رغبت تھی اور کیوں نہ رکھتے 8 سالہ گڈو اور دس سالہ نوری تھے ہی اتنے پیارے کہ شکل و صورت اور صفائی ستھرائی کو دیکھ کر لگتا ہی نہ تھا کہ یہ غربت کی چکی میں پسے فاقہ زدہ گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں بچوں کو بھی سرمد صاحب سے خاص انسیت تھی وہ روزانہ اپنے بچوں کے لئے ان سےکھلونے خرید کر لے جاتے اب تو شاید ان کے بچوں کو بھی انتظار رہتا ہوگا کہ کب ابو واپس آئیں اور انہیں کھلونے دیں۔۔۔۔
نوری اور گڈو کی ماں ان بچوں کا واحد سہارا تھی کیونکہ 5 سال پہلےانکا باپ اس بے رحم دنیا میں انکو تن تنہا چھوڑ کر خالق حقیقی سے جا ملا رشتہ داروں نے منہ پھیر لیا تب سے نوری کا تعلیمی سلسلہ منقطع ہوا اور وہ کھلونے بیچنے لگی۔۔۔۔۔
گڈو کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہی نہ ہو سکا تھا یہ روز کا معمول تھا آٹھ سوا آٹھ بجے سرمد صاحب آفس جاتے اور شام چھ بجے واپسی ہوتی تھی۔۔
نوری کو پڑھنے کا حد درجہ شوق تھا اور سرمد صاحب نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ ٹائم نکال کر وہ اسے ضرور پڑھائیں گے نوری تب سے انتظار میں رہتی سرمد صاحب اسے اپنے بابا کی طرح لگتے وہ انہیں اپنا آئیڈیل سمجھتی تھی۔۔۔۔۔۔۔
” کیا بات ہے باجی آج تو بڑی خوش ہے” گڈونے نوری کی خوشی دیکھ کر پوچھا
"گڈو آج بڑے صاحب ہمارے لئے کتابیں اور پڑھنے لکھنے کا دوسرا سامان لاکر دیں گے پھر کل سے وہ ہمیں پڑھانے بھی آئیں گے” یہ سن کر گڈوبھی خوش ہوگیا۔
اس وقت نوری کی خوشی کی انتہا نہ رہی جب سرمد صاحب نے دونوں بچوں کوکتابیں،کاپیاں اور پڑھنے لکھنے کا دوسرا ضروری سامان دیا اور کہا کہ کل شام کو وہ بچوں کے ساتھ انکے گھر پڑھانے چلیں گے۔۔۔۔
"اوہ ہو گڈو تمہیں بھی ابھی بخار ہونا تھا آج تو بڑے صاحب نے ہمیں پڑھا نے بھی آنا تھا ” نوری نے گڈو کی جلتی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر فکرمندی سے کہا ، اتنے انتظار کے بعد تو اسے پڑھنے کا موقع ملا تھا اب کل تک کا انتظار اسکے لئے بہت تکلیف دہ تھا ۔۔۔ اماں گڈو کے لئے باورچی خانے میں دلیہ بنا رہی تھیں ،6 بجنے والے تھے نوری اماں سے ضد کر کے اکیلی سگنل کی طرف چل دی تاکہ بڑے صاحب کو گھر لاسکے۔۔۔۔۔۔۔
ایک گھنٹہ گزر گیا مگر نوری واپس نہ آئی کچھ دیر اور انتظار کرنے کے بعد اماں بخار سے تپتے ہوئے گڈو کو چھوڑ کر سگنل پر گئی مگر وہاں سوائے نوری کے سب کچھ ویسا ہی تھا ۔۔۔ وقت اپنی دائمی رفتار سے گزر رہا تھا وہ وہیں بیٹھ کر انتظار کرنے لگی رات گہری سے گہری ہوتی جارہی تھی ،یہاں تک کہ صبح کی کرنیں نمودار ہونے لگی مگر نہ نوری آئی اور نہ بڑے صاحب کی کالی گاڑی۔۔۔۔۔۔
پولیس سے رابطہ کیا انہوں نے رپورٹ لکھ لی ۔۔۔۔۔
گڈو اپنی بیماری بھول کر رات دن سگنل پر کھڑا رہنے لگا مگر جسے نہ آنا ہو وہ نہیں آتا ۔۔۔
دروازے پر ہونے والی ہر دستک پر گھر میں موجود دونوں وجود ایسے لرزتے ہیں گویا زلزلہ آگیا ہو ۔۔۔
4 دن بعد ہونے والی دستک نے دونوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا دروازے پر پولیس تھی انہیں جھاڑیوں سے ایک دس سالہ بچی کی لاش ملی تھی جسے زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا تھا، شناخت کے لئے جانا تھا دل میں عجیب ہول اٹھنے لگے عجیب عجیب منفی خیالات ذہن میں اجا گر ہونے لگے اور یہی منفی خیالات اس وقت حقیقت کی شکل اختیار کر گئے جب سفید کفن میں لپٹا ہوا نوری کا بے جان وجود سامنے تھا۔۔۔۔
نوری تو اس اعتبار کی بھینٹ چڑھ گئی جو یہ معصوم لوگ بلا سوچے سمجھے بڑے صاحب پر کر بیٹھے تھے۔ نوری منوں مٹی تلے کیا گئی ساتھ میں اپنی ماں کے حواس بھی لے گئی۔ کئی ماہ و سال گذر جانے کے بعد بھی وہ نوری نوری پکارتی گلیوں میں گھومتی ہے اور گڈو روزانہ سگنل پر کھڑے ہو کر صرف اس ایک کالی گاڑی کا منتظر ہے جس میں بیٹھے شیطان نما انسان سے اپنی بہن کا قصور پوچھ سکے۔



