
صرف کتابیں مت پڑھیں،
کبھی زندگی کے اوراق بھی پلٹ کر دیکھیے۔۔۔۔
کبھی
کسی بوڑھے برگد کے نیچے بیٹھ کر
ہوا کی لرزتی سانسوں کو سنیے،
وہ آپ کو بتائیں گی
کہ مضبوط دکھائی دینے والے درخت بھی
اکثر اندر سے ٹوٹے ہوتے ہیں۔۔
صرف کتابیں مت پڑھیں،
کبھی ڈھلتے سورج سے پوچھیں
کہ رخصت ہونا کتنا مشکل ہوتا ہے،
اور یہ بھی
کہ ہر شام کے ماتھے پر
تنہائی کا ایک زرد داغ کیوں ہوتا ہے۔

کبھی سوکھے پتوں کو ہاتھ میں لے کر دیکھیں،
وہ درختوں سے بچھڑ کر بھی
ہوا کے ساتھ سفر کرتے رہتے ہیں،
جیسے کچھ لوگ
اپنوں سے جدا ہو کر بھی
یادوں کے موسم میں زندہ رہتے ہیں۔
صرف کتابیں مت پڑھیں،
ٹھٹھرتی شاموں کو بھی پڑھا کریں،
ان کے سرد ہاتھوں میں
بچھڑنے والوں کی خاموش دعائیں ہوتی ہیں،
اور دھند میں لپٹے راستے
اکثر اُن لوگوں کی طرح لگتے ہیں
جو منزل سے پہلے ہی تھک گئے ہوں۔
برستے بادلوں کو غور سے دیکھیے،
یہ صرف پانی نہیں برساتے،
کئی برسوں سے جمع درد بھی
قطروں میں بہا دیتے ہیں۔
کبھی بارش میں بھیگتی کھڑکیوں کے پاس بیٹھ کر
سوچیے۔۔۔۔۔
کچھ آنکھیں آخر
اتنی خاموشی سے کیوں رو لیتی ہیں۔۔۔؟
صرف کتابیں مت پڑھیں،
خاموش آنکھوں کا ترجمہ بھی سیکھیے،
کیونکہ ہر شخص
اپنے دکھ زبان سے بیان نہیں کرتا۔
کچھ لوگ
مسکراہٹ اوڑھ لیتے ہیں
تاکہ دنیا ان کی ٹوٹ پھوٹ نہ پڑھ سکے۔
اداس منظروں کو بھی پڑھا کریں،
ویران راستوں پر چلتے ہوئے
آپ کو احساس ہوگا
کہ تنہائی صرف اکیلے ہونے کا نام نہیں،
کبھی ہجوم بھی
انسان کو اندر سے خالی کر دیتا ہے۔
صرف کتابیں مت پڑھیں،
ادھورے چاند کو بھی غور سے دیکھیے،
وہ ہر مہینے
کچھ راتیں کم رہ کر جیتا ہے،
جیسے کچھ لوگ
اپنی خواہشوں کا آدھا حصہ مار کر
رشتے نبھاتے ہیں۔
ٹوٹتے تاروں سے پوچھیے،
زمین تک پہنچنے سے پہلے
کتنے خواب جل جاتے ہیں۔
اور یہ بھی
کہ ہر چمکتی چیز
ہمیشہ خوش قسمت نہیں ہوتی۔
صرف کتابیں مت پڑھیں،
ادھ کھلے پھولوں کو بھی محسوس کیجیے،
بعض خوشبوئیں
وقت سے پہلے مر جاتی ہیں،
اور کچھ محبتیں
اظہار سے پہلے ہی دفن ہو جاتی ہیں۔
بہتے چشموں کو دیکھیے،
وہ پتھروں سے ٹکرا کر بھی
رکنا نہیں سیکھتے،
شاید اسی لیے
زندگی بہنے والوں کو زندہ رکھتی ہے۔
سوکھے دریاؤں کے کنارے کھڑے ہو کر سوچیے،
ہر خاموشی کے پیچھے
کوئی نہ کوئی قیامت ضرور گزری ہوتی ہے۔
کوئی دریا
یونہی پیاسا نہیں مرتا۔
صرف کتابیں مت پڑھیں،
عام سے چہروں کو بھی پڑھا کریں،
کسی مزدور کے پسینے میں
ادھورے خواب ملیں گے،
کسی ماں کی آنکھوں میں
جاگتی دعاؤں کے چراغ،
کسی باپ کی خاموشی میں
ٹوٹتے حوصلوں کی آواز،
اور کسی بچے کی ہنسی میں
وقت سے پہلے چھن جانے والی معصومیت۔
کبھی ریلوے اسٹیشن پر بیٹھ کر
جاتی ہوئی ٹرینوں کو دیکھیے،
ہر ڈبے میں
کوئی امید سفر کرتی ہے،
کوئی جدائی روتی ہے،
اور کوئی شخص
اپنے شہر کو آخری بار دیکھتا ہے۔
صرف کتابیں مت پڑھیں،
کبھی قبرستان بھی جایا کریں،
وہاں خاموش قبریں
انسان کی ساری انا کو
چند لمحوں میں دفن کر دیتی ہیں۔
وہاں جا کر معلوم ہوتا ہے
کہ آخر میں
نہ عہدے ساتھ جاتے ہیں،
نہ دولت،
نہ تعریفیں،
صرف اعمال
مٹی کے ساتھ لیٹتے ہیں۔
کبھی رات کے آخری پہر
تنہا آسمان کو دیکھیے،
ستاروں کی چمک میں
آپ کو اُن لوگوں کے خواب ملیں گے
جو دنیا سے ہار گئے
مگر امید سے نہیں۔
صرف کتابیں مت پڑھیں،
زندگی کو پڑھنا سیکھیے
کیونکہ بعض اوقات
ایک خاموش چہرہ
ہزار کتابوں سے زیادہ سکھا دیتا ہے،
اور ایک اداس لمحہ
پوری عمر کا فلسفہ بن جاتا ہے۔
کتابیں علم دیتی ہیں،
مگر زندگی
سمجھ عطا کرتی ہے۔



