بلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبکالم

تقریب ملتوی ہوئی،کتاب نہیں

بے لگام / ستار چوہدری

 

میں نے پانچ سال ایک خواب کے ساتھ گزارے، ایک کتاب لکھی، ایک خیال کو الفاظ دیے، ایک امید کو صفحات میں قید کیا،کتاب کا نام رکھا ’’ پاکستان بچاؤ ’’۔۔۔۔ یہ کوئی ناول نہیں تھا، نہ شاعری کا مجموعہ، نہ یادداشتوں کی کتاب، یہ ایک سوال تھا، ایک تجویز تھی، ایک خواہش تھی کہ شاید ہم اپنے ملک کو بہتر بنانے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ سکیں۔

تقریب کی تاریخ طے ہوئی، مقررین سے رابطے ہوئے، کتابیں ان کے گھروں تک پہنچائی گئیں، وقت لیا گیا، سب کچھ تیار تھا۔۔۔۔لیکن پھر ایک عجیب دن طلوع ہوا،وہ دن جس نے مجھے صرف ایک تقریب کے بارے میں نہیں، بلکہ ہمارے معاشرتی رویوں کے بارے میں بھی بہت کچھ سکھا دیا۔۔۔کوئی مقرر نہ آیا۔۔۔ نہ جانے کیوں ۔۔۔؟

مجھے تقریب ملتوی کرنا پڑی۔۔۔ایک دوست نے پوچھا۔۔۔!! اگر کوئی کتاب کی تقریب میں نہ آئے تو کیا کتاب ناکام ہو جاتی ہے۔۔۔؟ میں نے مسکرا کر کہا، اگر ایسا ہوتا تو دنیا کی آدھی بڑی کتابیں کبھی زندہ نہ رہتیں، کتابوں کی قسمت ہالوں میں نہیں لکھی جاتی، وہ قارئین کے دلوں میں لکھی جاتی ہے، ایک تقریب ملتوی ہو سکتی ہے، ایک تاریخ بدل سکتی ہے، ایک پروگرام منسوخ ہو سکتا ہے، مگر ایک خیال کو کیسے ملتوی کیا جا سکتا ہے۔۔۔؟

ایک خواب کو کیسے روکا جا سکتا ہے۔۔۔؟ ایک لفظ کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے۔۔۔؟ میں نے اپنی میز پر رکھی کتاب کو دیکھا تو اچانک احساس ہوا کہ کل بھی یہ کتاب یہی تھی، آج بھی یہی ہے، اس کے صفحات کم نہیں ہوئے، اس کے الفاظ مٹ نہیں گئے، اس کے خواب مر نہیں گئے،اس کے خیالات ختم نہیں ہوئے۔۔۔ پھر آخر نقصان کیا ہوا۔۔۔؟ صرف اتنا کہ سفر میں ایک رکاوٹ آ گئی۔۔۔اور رکاوٹیں منزلوں کو ختم نہیں کرتیں، صرف مسافروں کا امتحان لیتی ہیں۔

میرے گاؤں کے ایک بزرگ کہا کرتے تھے، بیٹا۔۔۔!!اگر پہلی دستک پر دروازہ نہ کھلے تو یہ مت سمجھنا کہ گھر خالی ہے،کبھی کبھی اندر والوں کو آنے میں وقت لگ جاتا ہے۔ شاید خیالات کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے، کچھ خیالات فوراً قبول نہیں کیے جاتے، کچھ خواب فوراً نہیں سمجھے جاتے، مگر ۔۔۔اگر ان میں سچائی ہو تو وہ اپنا راستہ خود بنا لیتے ہیں۔۔

پانچ سال۔۔۔ یہ کوئی پانچ دن یا پانچ مہینے نہیں تھے، پانچ سال انسان کی زندگی میں ایک طویل عرصہ ہوتے ہیں، پانچ سال میں بچے جوان ہو جاتے ہیں، دوست بدل جاتے ہیں، حالات بدل جاتے ہیں۔۔۔ اور بعض اوقات انسان خود بھی بدل جاتا ہے۔ مگر کچھ خواب ایسے ہوتے ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتے، یہ کتاب بھی میرے لیے کچھ ایسی ہی تھی، میں جب بھی پاکستان کے مسائل دیکھتا، دل میں ایک سوال اٹھتا۔۔۔ کیا ہم صرف شکایت کرنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔۔۔؟

کیا ہمارا کام صرف خرابیوں کی نشاندہی کرنا ہے۔۔۔؟ یا پھر ہمیں حل بھی تلاش کرنے چاہئیں۔۔۔؟ شاید اسی سوال نے مجھے قلم اٹھانے پر مجبور کیا۔۔۔ میں نے تعلیم کے بارے میں سوچا، عدلیہ کے بارے میں سوچا، سکیورٹی کے بارے میں سوچا، معیشت کے بارے میں سوچا،سیاحت،معدنیات،بندرگاہیں،آئین،طرزحکومت،دہشتگردی و دیگر مسائل کے بارےمیں سوچا۔۔۔ اور پھر جو کچھ سمجھ سکا، جو کچھ سیکھ سکا، اسے صفحات پر منتقل کرتا گیا۔۔۔۔مجھے معلوم تھا کہ ہر شخص میری بات سے اتفاق نہیں کرے گا، اختلاف تو علم کی دنیا کا حسن ہوتا ہے، میری خواہش صرف اتنی تھی کہ گفتگو شروع ہو، لوگ سوچیں، سوال کریں، اپنی رائے دیں۔۔۔ اور اگر میری کسی تجویز سے بہتر تجویز موجود ہو تو اسے سامنے لائیں۔۔۔ پھر وہ دن آیا جس کا انتظار تھا،۔۔۔اور پھر وہی ہوا جو شاید میرے منصوبے میں شامل نہیں تھا۔

تقریب ملتوی کرنا پڑی، ایک لمحے کے لیے دل ضرور بوجھل ہوا، لیکن پھر میری نظر ان چند دوستوں پر پڑی جو اس دن آئے تھے، وہ لوگ جو نہ مقرر تھے، نہ مہمانِ خصوصی۔،نہ ان کے پاس بڑی تقریریں تھیں، نہ بڑے عہدے، وہ صرف مخلص لوگ تھے۔۔۔ اور بعض اوقات چند مخلص لوگ، ایک بھرے ہوئے ہال سے زیادہ قیمتی ہوتے ہیں۔ اس دن مجھے احساس ہوا کہ زندگی ہمیشہ ہمیں وہ نہیں دیتی جس کی ہم توقع کرتے ہیں، لیکن اکثر وہ ہمیں وہ ضرور دے دیتی ہے جس کی ہمیں ضرورت ہوتی ہے۔۔۔ اور شاید اس دن مجھے بھی ایک سبق درکار تھا۔

اس دن مجھے ایک اور بات بھی سمجھ آئی، ہم میں سے اکثر لوگ کامیابی کو بہت غلط طریقے سے ناپتے ہیں، ہم کرسیوں کو گنتے ہیں، لوگوں کو گنتے ہیں، تالیوں کو گنتے ہیں، تعریفوں کو گنتے ہیں۔،مگر ہم یہ نہیں دیکھتے کہ جس مقصد کے لیے سفر شروع کیا تھا، وہ ابھی بھی زندہ ہے یا نہیں۔ میں رات کو گھر واپس آیا تو الماری میں پڑی کتاب پر نظر پڑی، وہ خاموش تھی، مگر اس کی خاموشی میں ایک عجیب سا سوال تھا، کیا تم نے مجھے اس لیے لکھا تھا کہ ایک تقریب ہو جائے۔۔۔؟ میں کچھ دیر اسے دیکھتا رہا، پھر مجھے خود ہی جواب مل گیا۔۔۔

نہیں۔ ۔۔میں نے یہ کتاب کسی تقریب کے لیے نہیں لکھی تھی، میں نے یہ کتاب اس امید کے ساتھ لکھی تھی کہ شاید کوئی نوجوان اسے پڑھے گا، شاید کوئی استاد اس کے کسی خیال پر غور کرے گا، شاید کوئی طالب علم اس کے کسی صفحے پر رک جائے گا، شاید کوئی شخص مجھ سے اختلاف کرے گا اور ایک بہتر راستہ تجویز کرے گا، اور یہ سب کچھ ابھی بھی ممکن ہے، کیونکہ ملتوی تقریب ہوئی تھی، کتاب نہیں۔۔۔ میں آج بھی وہی شخص ہوں جس نے پانچ سال پہلے یہ سفر شروع کیا تھا۔

میرے پاس آج بھی وہی قلم ہے، وہی خیالات ہیں، وہی خواب ہیں، وہی خواہش ہے کہ پاکستان ایک ترقی یافتہ ،تعلیم یافتہ، منصف اور محفوظ ملک بنے، اگر ایک دروازہ بند ہو جائے تو خواب ختم نہیں ہوتے، اگر ایک راستہ رک جائے تو سفر ختم نہیں ہوتا، اگر ایک تقریب ملتوی ہو جائے تو خیالات مر نہیں جاتے، زندگی کا شاید سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ منزل تک پہنچنے والے لوگ رکاوٹوں کا ماتم نہیں کرتے، وہ ان کے اردگرد سے گزرنے کا راستہ تلاش کرتے ہیں۔

آج جب میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں تو میرے دل میں کسی کے لیے شکوہ نہیں ہے، نہ کسی سے ناراضی ہے۔۔۔ کیونکہ زندگی نے مجھے یہ سکھا دیا ہے کہ ہر شخص اپنی جنگ لڑ رہا ہوتا ہے۔۔۔اور ہر انسان اپنے حالات کا قیدی بھی ہو سکتا ہے۔ ہاں، ایک لمحے کے لیے مایوسی ضرور ہوئی تھی۔ لیکن پھر میں نے سوچا کہ اگر ایک ملتوی ہونے والی تقریب میرے حوصلے کو ختم کر دے تو پھر پانچ سال کی محنت کا مطلب ہی کیا رہ جاتا ہے۔۔۔؟

آخر میں نے یہ سفر کسی ہال تک پہنچنے کے لیے تو شروع نہیں کیا تھا، میں نے یہ سفر ایک خیال کے لیے شروع کیا تھا۔۔۔ اور خیالات کا سفر تاریخوں کا محتاج نہیں ہوتا، آج بھی کتاب میرے سامنے موجود ہے، اس کے صفحات ویسے ہی ہیں، اس کے الفاظ ویسے ہی ہیں، اس کے خواب ویسے ہی ہیں۔۔۔ اور پاکستان کے لیے میری امید بھی ویسی ہی ہے، اس لیے میں اس واقعے کو ناکامی نہیں سمجھتا، یہ صرف راستے میں آنے والا ایک موڑ تھا، ایک سبق تھا، ایک یاد دہانی تھی کہ دنیا میں کسی کو راستے نہیں دیے جاتے، راستے بنانے پڑتے ہیں، کبھی تنہا چل کر، کبھی چند مخلص دوستوں کے ساتھ چل کر۔۔۔ اور کبھی خاموشی سے اپنے خوابوں پر یقین قائم رکھ کر۔ شاید چند سال بعد مجھے یہ دن یاد بھی نہ رہے، شاید مجھے یہ بھی یاد نہ رہے کہ کون آیا تھا اور کون نہیں آیا تھا، لیکن مجھے یقین ہے کہ مجھے ایک بات ضرور یاد رہے گی، میں نے ایک خواب دیکھا تھا، میں نے اس خواب کو الفاظ دیے تھے۔۔۔

اور جب راستے میں پہلی بڑی رکاوٹ آئی تو میں نے خواب چھوڑنے کے بجائے سفر جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔۔۔ کیونکہ تقریبیں ملتوی ہو سکتی ہیں، تاریخیں بدل سکتی ہیں، لوگ بدل سکتے ہیں، مگر جو خواب قوموں کی بھلائی کے لیے دیکھے جائیں، وہ اتنی آسانی سے نہیں مرتے۔۔۔ اور میں آج بھی یقین رکھتا ہوں کہ اگر نیت سچی ہو، خیال سچا ہو اور قلم دیانت دار ہو، تو وقت ایک دن ضرور گواہی دیتا ہے۔۔۔ آخرکار، کتابوں کا فیصلہ ہجوم نہیں کرتا۔۔۔وقت کرتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button