اسلام آباد:(ویب ڈیسک)سپریم کورٹ نے پاکستانی خاتون سے شادی کرنے والے افغان شہری جلت خان کی ضمانت منظور کر لی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ دو بچے موجود ہیں تو شادی کا اور کیا ثبوت چاہیے، اگر ملزم کے پاس کوئی دستاویز نہیں تو اسے افغان کیسے ڈکلیئر کر دیا گیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ سرکاری وکیل نے موقف اپنایا کہ ملزم کے پاس خاتون سے شادی کا نکاح نامہ تک نہیں ، یہ نکاح نامہ 2024 میں بنوایا گیا۔
ملزم کے وکیل نےبتایا عورت کا تعلق مہمند ایجنسی سے ہے اور شادی 1993 میں ہوئی تھی لیکن اس وقت نکاح نامہ نہیں بنایا گیا۔ دیہاتوں میں کون نکاح نامے بنواتا ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا سرکار نے ہی افغانوں کو پاکستان آنے کی اجازت دی تھی، راشن بھی دیا گیا، کچھ خود بھی کھایا۔
دو ہائیکورٹس پہلے ہی پاکستانی خاتون سے شادی کرنے والے افراد کو ڈومیسائل دینے کا حکم دے چکی ہیں۔دو بچے موجود ہیں، شادی کا اور کیا ثبوت چاہیے؟،اگر ملزم کی کوئی دستاویز نہیں تو آپ نے کیسے افغان ڈکلیئر کر دیا؟۔



