اسرائیل پر میزائلوں کی نئی بارش: تل ابیب، حیفہ، دیگر شہر لرز اٹھے: 14اسرائیلی ہلاک،300زخمی
عماد، غدر اور خیبر شکن میزائلوں کا استعمال، اسرائیل کے شمالی حصے میں ایران کے جنگی طیاروں کی پروازیں، آئل ڈپو تباہ، متعدد عمارتیں کھنڈر بن گئیں، جوہری تنصیبات ڈیمونا کو بھی نشانہ بنایا گیا، حملوں کے بعد 35 صیہونی لاپتہ، اسرائیلی ایئر ڈیفنس سسٹم ناکام ، شدید خوف و ہراس
تہران، تل ابیب (ویب ڈیسک) ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور ایک دوسرے پر میزائل و فضائی حملے جاری ہیں، اسرائیلی ڈیفنس فورسز نے گزشتہ رات گئے ایک بار پھر تہران پر فضائی حملے کئے اور ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک عمارتوں کو نشانہ بنایا، جن میں وزارتِ دفاع بھی شامل ہے، ایرانی دارالحکومت تہران میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ جبکہ ایران نے اسرائیل پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل پر میزائلوں کی نئی بارش کر دی، میزائل اور ڈرون حملے کئے گئے۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق 100سے زائد میزائل یروشلم ،تل ابیب، حیفہ،رملہ اور دیگر شہروں پر داغے گئے، جبکہ وسطی اسرائیل میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ میزائلوں کے حملے کے بعد تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس میں سائرن کی آوازیں سنائی دیتی رہیں، جس سے لوگوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ تل ابیب میں دھماکوں کے بعد دھویں کے بادل چھا گئے، میزائل حملوں میں اسرائیلی جوہری تنصیبات ڈیمونا کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی میڈیا نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیل پر عماد، غدر اور خیبر شکن میزائلوں کا استعمال کیا گیا۔ ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کا ایک بڑا آئل ڈپو تباہ ہو گیا جبکہ متعدد عمارتیں کھنڈر بن گئیں۔ سپر سانک میزائل پر 7ٹن بارودی مواد لدا ہوا تھا۔ ایرانی حکام کے مطابق شمالی شہر حیفہ میں توانائی ڈھانچہ، اسرائیلی لڑاکا طیاروں کو تیل فراہم کرنے والی تنصیبات بھی نشانہ بنائی گئیں۔ ادھر اسرائیل نے ایرانی حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے شمالی حصے میں ایران کے جنگی طیارے دیکھے گئے ہیں۔ اسرائیلی حکام کے مطابق رات بھر جاری رہنے والے ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں کم از کم 14افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 300سے زائد زخمی ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایرانی حملوں کے بعد سے 35شہری لاپتہ بھی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تل ابیب کے قریب شہر بیت یام میں چھ افراد ہلاک ہوئے۔ سات افراد لاپتہ ہیں اور امدادی ٹیمیں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایمرجنسی سروسز اور مقامی ہسپتال کے مطابق شمالی عرب شہر طمرہ میں بھی چار افراد ان حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔
میزائلوں حملوں کے سائرن بجنے کے بعد اسرائیلی شہریوں کو بنکرز میں جانے کی ہدایات دی گئیں۔ ادھر ایران کے مطابق اسرائیلی حملوں میں شہران کا آئل ڈپو اور تہران کے فیول ٹینک نشانہ بنے، تاہم وزارتِ تیل کا کہنا ہے کہ صورتحال قابو میں ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے حملہ تہران کے نو بنیاد علاقے میں وزارتِ دفاع کی ایک ہیڈ کوارٹر عمارت پر کیا گیا جس کے نتیجے میں عمارت کو جزوی نقصان پہنچا، جانی نقصان کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں۔ جبکہ اسرائیلی فوج نے ایک تازہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران پر جاری فضائی حملوں کے دوران پاسدارانِ انقلاب سمیت ایرانی افواج کے 20سے زائد اعلیٰ فوجی کمانڈروں کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیل نے ایرانی شہر مشہد پر بھی حملہ کیا، اسرائیلی فوج کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا انٹیلی جنس ہیڈ کوارٹر تباہ کر دیا ہے۔ جبکہ تہران میں ہونے والے کار بم دھماکوں میں مزید پانچ ایٹمی سائنسدان جاں بحق ہوگئے۔
اسرائیل نے پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس چیف اور ڈپٹی کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ مزید برآں ایرانی خبر رساں ایجنسی اسنا نے ایران کے پاس اسرائیل تک مار کرنے کی صلاحیت کے حامل 9قسم کے میزائلوں کی اطلاع دی ہے۔ اسنا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے پاس 9قسم کے میزائل ہیں جن کی رفتار 6125کلومیٹر فی گھنٹہ سے لے کر 17151کلومیٹر فی گھنٹہ تک ہے۔ دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اسرائیل کو مزید تکلیف دہ اور تباہ کن جواب دیا جائے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی عراقی وزیراعظم شیاع السُودانی سے ٹیلیفونک گفتگو ہوئی ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ ایران نے جنگ شروع نہیں کی، لیکن طاقتور جواب دیا۔
عراقی وزیراعظم سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کیخلاف کھڑے ہونا تمام مسلم ممالک کی ذمہ داری ہے، اسرائیل کونہ روکا تو یہ خطے کے دیگر ممالک پر بھی جارحیت کریگا۔ دریں اثنا عراقی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق، شیاع السُودانی نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازعے میں کشیدگی کو روکنے کے لیے عراق کے عزم پر زور دیا۔ شیاع السُودانی کہا کہ عراق، ایران کو ہر ممکن امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسرائیل کی کارروائیوں کو مسترد کرنے پر عراق کے موقف کا شکریہ ادا کیا، جن میں خطے کے مختلف ممالک پر بار بار حملے شامل ہیں۔ ایرانی صدر نے اسرائیلی حملوں اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزیوں کے خلاف متحدہ ردعمل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ اقدامات دیگر اسلامی ممالک کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔ مزید برآں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اسرائیل نے ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرکے نئی سرخ لائن عبور کرلی ہے، اسرائیل کے حملوں میں امریکہ برابر کا شریک ہے اور اس کا خمیازہ بھگتنا ہوگا، انہوں نے واضح کیا کہ 60فیصد یورینیم افزودہ کرنے کا عمل جاری رکھا جائے گا۔
تہران میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ امریکی آشیر باد کے بغیر اسرائیل کا ایران پر حملہ ممکن نہیں تھا، اسرائیلی حملے میں امریکہ کے ملوث ہونے کے کافی شواہد موجود ہیں، امریکہ نے مکتوب بھیج کر اسرائیلی حملے میں شریک نہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارس گیس فیلڈ پر اسرائیل کا حملہ خطرناک عمل تھا، انہوں نے مطالبہ کیا کہ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی ایران کے نطنز ری ایکٹر پر اسرائیلی حملے کی مذمت کرے، انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ایران کسی ایسے معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا جو اسے جوہری توانائی کے حصول سے روکے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو اسرائیلی جارحیت کا نوٹس لینا چاہیے، ہمیں اسرائیلی معاشی مفادات پر حملوں کے لیے مجبور کیا گیا۔ عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران جنگ کو طول نہیں دینا چاہتا، اسرائیل کیخلاف جوابی حملے اپنے دفاع میں کئے، ہم نہیں چاہتے کہ یہ تنازع دیگر ممالک تک پہنچے، اگر مجبور کیا گیا تو تہران جنگ کو دیگر ممالک تک بڑھانے پر غور کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حملے سے تنازع پورے خطے میں پھیل جائے گا، عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران اپنے پرامن جوہری پروگرام پر کاربند ہے۔ ادھر ایرانی وزارت صحت کے مطابق اسرائیل کے حملوں میں 2دن میں 128ایرانی شہید جبکہ 900زخمی ہوئے جو ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ ایرانی وزارت کے مطابق شہید ہونے والوں میں 40خواتین اور متعدد بچے بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایرانی ملٹری کی جانب سے ٹویٹر پر ویڈیو جاری کی گئی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایرانی میزائل نے کامیابی کے ساتھ حیفہ بندرگاہ کو بھی نشانہ بنایا ہے۔



