انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

استنبول اجلاس: ترکیہ پاکستان کو توانائی بحران سے نمٹنے کیلئے معاونت فراہم کرے گا

پاکستان اور ترکیہ کا توانائی شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق، بجلی کے شعبے میں اصلاحات، نجکاری اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے اہم معاہدے طے پا گئے

اسلام آباد، استنبول (ویب ڈیسک)
پاکستان اور ترکیہ نے توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے اور پاکستان کے پاور سیکٹر میں اصلاحات کے لیے مشترکہ اقدامات پر اتفاق کر لیا ہے۔ استنبول میں توانائی سے متعلق اعلیٰ سطح کے بین الوزارتی اجلاس میں ترکیہ نے پاکستان کو بجلی کے شعبے میں بہتری، نجکاری اور گورننس اصلاحات کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔

ترک وزیر توانائی الپرسلان بیرکتار کی دعوت پر پاکستانی وفد نے استنبول میں ہونے والے اہم اجلاس میں شرکت کی۔ پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری اور مشیر نجکاری محمد علی نے کی۔

اجلاس میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی اصلاحات، نجکاری کے عمل اور پاور سیکٹر کی تنظیم نو پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے کہا کہ پاکستان توانائی کے شعبے میں اصلاحات، گورننس کی بہتری اور شفاف و سرمایہ کار دوست نجکاری عمل کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں بہتری اور ریگولیٹری فریم ورک کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔

ترکیہ کا پاکستان کو تکنیکی معاونت کی پیشکش

ترکیہ نے پاکستان کے توانائی شعبے میں اصلاحات کے لیے تکنیکی تعاون کی پیشکش کرتے ہوئے اپنے تجربات شیئر کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

ترک وزیر توانائی نے پاکستانی حکام اور ترک کمپنیوں کے درمیان روابط بڑھانے کی یقین دہانی کرائی جبکہ دونوں ممالک نے ریگولیٹری مہارت، گورننس اور نجکاری کے بہترین طریقوں کے تبادلے پر اتفاق کیا۔

اجلاس میں ترک نجی سرمایہ کاروں کو پاکستان کے پاور سیکٹر میں سرمایہ کاری کی دعوت دی گئی اور توانائی کے شعبے میں طویل المدتی شراکت داری کے فروغ پر اتفاق کیا گیا۔

توانائی شعبے میں 3 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

اجلاس کے دوران پاکستان اور ترکیہ کے توانائی اداروں کے درمیان تین اہم مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے جن کا مقصد توانائی شعبے میں ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینا ہے۔

مفاہمتی یادداشتوں میں:

  • ISMO اور EPIA کے درمیان تعاون
  • ISMO اور TEIA کے درمیان تعاون
  • PPMC اور TEDA کے درمیان تعاون

شامل ہیں۔

ان معاہدوں کے تحت نجکاری کے بعد گورننس فریم ورک، بجلی مارکیٹ کی ترقی، معاون خدمات کے ضوابط، پاور سسٹم آپریشنز، ٹرانسمیشن منصوبہ بندی، بجلی کی تقسیم کے شعبے کی ڈیجیٹلائزیشن اور تکنیکی مہارت کے تبادلے پر تعاون کیا جائے گا۔

پاکستان ترکیہ کے تجربات سے فائدہ اٹھائے گا

سردار اویس لغاری نے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ترکیہ کے بجلی مارکیٹ اصلاحات کے تجربات سے استفادہ کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے اداروں کے درمیان تعاون سے عملی معلومات، آپریشنل تجربات، تربیتی پروگرامز، مطالعاتی دوروں اور مشترکہ منصوبوں کو فروغ ملے گا۔

وفاقی وزیر کے مطابق پاکستان کے ٹرانسمیشن نظام کی ترقی، تقسیم کار شعبے کی جدیدکاری اور توانائی اداروں کی استعداد کار بڑھانے میں یہ شراکت داری اہم کردار ادا کرے گی۔

ترک فریق نے بھی طویل المدتی ادارہ جاتی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا، جبکہ دونوں ممالک نے توانائی کے شعبے میں باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button