انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

ایران ہر بات نہ مانا تو امریکہ وہی کرے گا جو ضروری ہوگا: ٹرمپ کا سخت لہجہ

معاملے پر یورپ نے امریکہ کا ساتھ نہیں دیا، ایران کو کوئی فنڈز فراہم نہیں کئے اور نہ ہی اسے ایسی کسی مالی معاونت کی ضرورت ہے، اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے ہر ضروری قدم اٹھائیں گے، نیٹو سربراہ سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو

واشنگٹن، تہران، منامہ (ویب ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران امریکہ کے ساتھ معاملات میں بڑی رعایتیں دے رہا ہے، تاہم اگر ایران نے طے شدہ امور پر عمل درآمد نہ کیا تو واشنگٹن وہ اقدامات کرے گا جو ضروری ہوں گے۔

ٹرمپ نے نیٹو چیف کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران ان کی بات مان رہا ہے اور اسے ایسا کرنا بھی ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ معاملات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں صورتحال مزید واضح ہو جائے گی۔

امریکی صدر نے ایران کے منجمد اثاثوں سے متعلق مالی معاونت کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ایران کو کوئی فنڈز فراہم نہیں کیے اور نہ ہی تہران کو ایسی مدد کی ضرورت ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر کسی اضافی ٹول یا مالی بوجھ عائد نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، جو عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اہم پیش رفت ہو سکتی ہے۔

آبنائے ہرمز کسی ایک ملک کی ملکیت نہیں: روبیو

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز کو کسی ایک ملک کی ملکیت کے طور پر قبول نہیں کرے گا۔

بحرین میں خلیج تعاون کونسل کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کے دوران مارکو روبیو نے کہا کہ امریکہ ایسا پائیدار امن چاہتا ہے جو حقیقی ہو اور اتحادی ممالک کی سکیورٹی و خوشحالی کو متاثر نہ کرے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں امریکہ اپنے اتحادیوں کے مفادات کو مدنظر رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی ٹیمیں 30 جون کو دوبارہ سوئٹزرلینڈ جائیں گی جہاں ایران کے جوہری پروگرام اور پابندیوں سے متعلق معاملات پر بات چیت ہوگی۔

مارکو روبیو نے واضح کیا کہ امریکہ ایران کے ساتھ معاہدے کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا، تاہم وہ کسی بھی قیمت پر معاہدہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک آبنائے ہرمز کے استعمال پر کسی بھی قسم کے ٹول ٹیکس یا فیس کے حق میں نہیں ہیں۔

ایران کا امریکہ پر عدم اعتماد برقرار

ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی حکام کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کے متضاد بیانات ایرانی عوام کے پہلے سے موجود عدم اعتماد کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ کسی بھی مفاہمتی یادداشت کی کامیابی کے لیے دونوں فریقوں کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی اور ایسے بیانات سے گریز کرنا ہوگا جو طے شدہ نکات سے متصادم ہوں۔

انہوں نے زور دیا کہ عہد کے بدلے عہد کے اصول کے تحت دونوں ممالک کو باہمی ذمہ داریوں کا احترام کرنا ہوگا تاکہ اعتماد بحال ہو سکے۔

پاسداران انقلاب کی آبنائے ہرمز پر وارننگ

ایرانی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران سے رابطے کے بغیر کسی نئے بحری راستے کا اعلان ناقابل قبول ہوگا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ صرف ان مخصوص روٹس کے ذریعے ممکن ہے جو ایران نے مقرر کیے ہیں، جبکہ بحری جہازوں کو ایرانی بحریہ کے ساتھ رابطہ اور تعاون کرنا ہوگا۔

بیان میں کہا گیا کہ ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایران کی اسرائیل کو بھی وارننگ

دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب قدس فورس کے سربراہ اسماعیل قانی نے اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان سے انخلا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ لبنانی سرزمین مزاحمت کا میدان ہے اور اگر اسرائیل خود لبنان سے نہیں نکلتا تو اسے شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button