جو دہلی کے ساتھ ہوا ، وہی کابل کے ساتھ ہوگا
شاہد جاوید ڈسکوی/دستک

پاکستان ایک بار پھر اپنی مغربی سرحدوں پر ایک نہایت پیچیدہ، حساس اور خطرناک صورتحال سے دوچار ہے۔ افغانستان کی جانب سے بڑھتی ہوئی اشتعال انگیزی، سرحد پار دراندازی، دہشت گردی کے مسلسل واقعات اور فتنۂ خوارج کی منظم کارروائیوں نے نہ صرف قومی سلامتی کو چیلنج کیا ہے بلکہ پورے خطے کے امن کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ چمن، غلام خان، خیبر، باجوڑ، لکی مروت اور بنوں سے آنے والی خبریں اس تلخ حقیقت کی غمازی کر رہی ہیں کہ پاکستان کی مغربی سرحدیں ایک مرتبہ پھر آگ اور خون کی لکیر بنتی جا رہی ہیں۔گزشتہ ماہ چمن سیکٹر میں کشیدگی، ضلع خیبر میں انسدادِ دہشت گردی کے آپریشنز، چند روز قبل بنوں میں فتح خیل پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ، لکی مروت کے سرائے نورنگ بازار میں دہشت گردی کی کارروائی اور شمالی وزیرستان کے غلام خان سیکٹر میں پاک فوج کی فتنہ خوارج کے خلاف بروقت اور مؤثر کارروائی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ دشمن اب کھلی جارحیت کے راستے پر گامزن ہے۔ غلام خان سیکٹر میں پاک فوج نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ایک بڑے دہشت گرد حملے کو ناکام بنایا، فتنۂ خوارج کے درجنوں دہشت گرد مارے گئے جبکہ آپریشن “غضب للحق” کے تحت دہشت گرد نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔ یہ تمام کارروائیاں اس حقیقت کا واضح اعلان ہیں کہ پاکستان اپنی سلامتی، خودمختاری اور ریاستی رِٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا تاہم اس پوری صورتحال کا ایک انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا پہلو بھی ہے، اور وہ ہے معصوم شہریوں اور بے گناہوں کا خون۔ باجوڑ میں افغان حدود سے ہونے والی گولہ باری کے نتیجے میں ایک ماں اور اس کے دو معصوم بچوں کی شہادت صرف ایک خبر نہیں بلکہ پوری قوم کے ضمیر پر ایک کاری ضرب ہے۔ اسی طرح خیبر میں فائرنگ کی زد میں آ کر ایک کم عمر بچے کی جان چلی جانا اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتیں بلکہ ان کے زخم گھروں کے آنگنوں تک پہنچتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف اس طویل جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں عام پاکستانی شہریوں نے دی ہیں۔ سرحدی علاقوں کے عوام برسوں سے خوف، بے یقینی اور مسلسل خطرات کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان کے لیے ہر دھماکہ، ہر فائرنگ اور ہر رات ایک نئی آزمائش بن چکی ہے۔
یہ حقیقت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان ایک طویل عرصے تک دہشت گردی کے چھٹ پٹ واقعات کو انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے قابو میں رکھے ہوئے تھا، مگر فروری کے بعد صورتحال نے خطرناک رخ اختیار کیا۔ اسلام آباد سے لے کر باجوڑ اور بنوں تک دہشت گردی کی نئی لہر نے یہ واضح کر دیا کہ حملے اب منظم انداز میں سرحد پار سے مربوط کیے جا رہے ہیں۔ تحقیقات اور سکیورٹی اداروں کے شواہد اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ ان حملوں کی منصوبہ بندی افغانستان کی سرزمین سے کی جا رہی تھی۔
بنوں میں فتح خیل پولیس اسٹیشن پر ہونے والا خودکش حملہ اسی سلسلے کی ایک خطرناک کڑی ہے۔ یہ پولیس اسٹیشن بنوں شہر سے تقریباً پانچ کلومیٹر دور نسبتاً غیر آباد علاقے میں واقع ہے۔ ماضی میں بھی دہشت گرد متعدد بار اسے نشانہ بنانے کی کوشش کر چکے تھے، مگر اس بار وہ اپنے مذموم عزائم میں کامیاب ہو گئے۔ دوسری جانب پنجاب کے شہر اٹک میں بھی ایک دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا جہاں خودکش حملہ آور اپنے ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی پکڑا گیا اور اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس کے باعث بڑا نقصان ٹل گیا۔ فروری کے آخری ہفتے میں پاکستان نے سرحد پار دہشت گرد ٹھکانوں کے خلاف محدود مگر ہدفی کارروائی کی۔ اس کارروائی کا مقصد صرف ان عناصر کو نشانہ بنانا تھا جو براہِ راست پاکستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچا رہے تھے۔ یہ اقدام کسی جارحیت کا اظہار نہیں بلکہ دفاعِ وطن کے اصول کے تحت ایک ناگزیر اور قانونی ردعمل تھا تاہم اس کے بعد سرحدی علاقوں میں شدید فائرنگ، کشیدگی اور دراندازی کے واقعات میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا۔ تادمِ تحریر افغانستان سے دہشت گردی، اشتعال انگیزی اور سرحد پار حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ خطے میں سرگرم شدت پسند عناصر کشیدگی کم کرنے کے بجائے اسے بڑھانے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں اور افغان طالبان ان کی مکمل پشت پناہی کررہت ہیں ۔ یہ لاتوں کے بھوت ہیں جو باتوں سے ماننے والے ہرگز نہیں۔
پاکستان نے آپریشن “غضب للحق” کے ذریعے کھلی جارحیت کا بھرپور جواب دیا۔ پاک فضائیہ کے شاہینوں نے دہشت گردوں کے اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر واضح پیغام دیا کہ پاکستان اپنے دفاع میں کسی قسم کی کمزوری یا مصلحت کا شکار نہیں ہوگا۔ کئی اہم چیک پوسٹس اور دراندازی کے راستے غیر مؤثر بنا دیے گئے جو عرصہ دراز سے پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔ پاک فوج نے پیشہ ورانہ مہارت، جرأت اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ان علاقوں پر کنٹرول حاصل کیا جو دہشت گرد نیٹ ورک کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے تھے۔ وہ عناصر جو سوشل میڈیا پر بیٹھ کر پاکستان کو دھمکیاں دیتے تھے، عملی میدان میں پاکستان کی عسکری تیاری، نظم و ضبط اور ٹیکنالوجیکل برتری کا سامنا نہ کر سکے اور پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے۔ دوسری جانب افغان طالبان حکومت کا طرزِ عمل انتہائی متضاد دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف مذاکرات اور برادرانہ تعلقات کی بات کی جاتی ہے جبکہ دوسری طرف دہشت گردی کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے اور وہاں موجود دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مؤثر کارروائی کی جانی چاہیے، مگر طالبان حکومت مسلسل اس حقیقت سے انکار کرتی رہی ہے کہ ان کی سرزمین پر کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر شدت پسند گروہ موجود ہیں۔
حالانکہ اب یہ معاملہ صرف پاکستانی مؤقف تک محدود نہیں رہا۔ اقوام متحدہ سمیت مختلف بین الاقوامی رپورٹس افغانستان میں متعدد شدت پسند تنظیموں کی موجودگی اور سرگرمیوں کی نشاندہی کر چکی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب، قطر، ترکیہ اور چین جیسے دوست ممالک بھی افغان قیادت کو مسلسل یہ باور کرانے کی کوشش کرتے رہے کہ وہ اپنی سرزمین کو خطے کے امن کے خلاف استعمال نہ ہونے دے، مگر زمینی حقائق اب بھی تشویشناک ہیں۔
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں حالیہ خطاب کے دوران انتہائی دوٹوک انداز میں افغانستان کی طالبان حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ “جو دہلی کے ساتھ کیا، وہی کابل کے ساتھ کریں گے۔” ان کا کہنا تھا کہ کابل حکومت بھارت کی پراکسی بنی ہوئی ہے اور پاکستان کو دہشت گردی روکنے کی کوئی یقینی ضمانت نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت مشرقی اور مغربی دونوں سرحدوں پر پاکستان کو ایک ہی نوعیت کے خطرات کا سامنا ہے۔
خواجہ آصف نے یہ انکشاف بھی کیا کہ پاکستان نے قطر، سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مل کر افغان حکومت کو سمجھانے کی بھرپور کوشش کی، مگر کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے پاک فوج کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ “اگر کوئی بچہ سرحد پر جا کر اپنی جان دیتا ہے تو اس کی شناخت پاکستان ہوتی ہے۔”
یہ بیان دراصل اس قومی درد، اضطراب اور غصے کی عکاسی کرتا ہے جو آج ہر پاکستانی محسوس کر رہا ہے۔ پاکستان کی سکیورٹی فورسز روزانہ قربانیاں دے رہی ہیں، جوان شہید ہو رہے ہیں، شہری لہو میں نہا رہے ہیں، مگر اس کے باوجود ریاست اپنی بقا، سلامتی اور دفاع کے لیے پوری قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔
یہ وقت محض جذباتی نعروں کا نہیں بلکہ قومی یکجہتی، سیاسی ہم آہنگی اور واضح ریاستی حکمت عملی کا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف فوج یا حکومت کی جنگ نہیں بلکہ پورے پاکستان کی جنگ ہے۔ بدقسمتی سے سیاسی تقسیم اور داخلی انتشار بعض اوقات قومی سلامتی کے معاملات کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ وزیر دفاع کا یہ شکوہ بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ “معرکۂ حق” کی تقریب میں بعض سیاسی جماعتوں نے شرکت نہیں کی، حالانکہ ایسے مواقع قومی اتحاد کا تقاضا کرتے ہیں۔
اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی طاقتوں کی جنگوں، داخلی خلفشار اور انتہا پسندی کا شکار رہا ہے۔ دنیا خصوصاً مسلم ممالک یہ توقع رکھتے تھے کہ طالبان کی واپسی کے بعد افغانستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ابھرے گا، مگر بدقسمتی سے صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ اگر افغان قیادت نے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی تو نہ صرف افغانستان بلکہ پورا خطہ مزید عدم استحکام، بدامنی اور خونریزی کا شکار ہو سکتا ہے۔ پاکستان کو جہاں اپنی سرحدوں کا مؤثر دفاع جاری رکھنا ہوگا، وہیں سفارتی محاذ پر بھی بھرپور فعالیت دکھانا ہوگی۔ عالمی برادری کو یہ باور کرانا ضروری ہے کہ افغانستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیمیں صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پورے خطے اور دنیا کے امن کے لیے خطرہ ہیں۔
خطے کا امن کسی ایک ملک کی ذمہ داری نہیں بلکہ مشترکہ مفاد ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ امن، مذاکرات اور برادرانہ تعلقات کو ترجیح دی ہے، لیکن امن کی خواہش کو کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ پاکستان اپنے دفاع، اپنی خودمختاری اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر حد تک جانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے اور عزم بھی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب ریاستیں اپنے وجود، سلامتی اور بقا کے لیے کھڑی ہوتی ہیں تو پھر صرف بیانات نہیں بلکہ عملی قوت فیصلہ کرتی ہے۔ اور بعض اوقات دشمن کو یہ سمجھانے کے لیے کہ امن کمزوری نہیں، وہی زبان استعمال کرنا پڑتی ہے جو وہ خود سمجھتا ہے۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ بعض لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔



