ایران پر ٹرمپ کی حکمت عملی سے اسرائیل کو کیوں لاعلم رکھا گیا؟
واشنگٹن نے بعض حساس فیصلے محدود سطح پر کیے، اسرائیلی حکام کو بھی اعتماد میں نہیں لیا،تل ابیب میں تشویش کی لہر دوڑ گئی: رپورٹ

واشنگٹن :(ویب ڈیسک)امریکہ نے ایران سے متعلق صدر ٹرمپ کی حکمت عملی کے بارے میں اسرائیلی حکام کو بھی مکمل طور پر اعتماد میں نہیں لیا، جس کے باعث واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان رابطوں سے متعلق کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔
ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایران کے حوالے سے ایک ایسی حکمت عملی پر کام کر رہی تھی جس کے مختلف پہلو اسرائیلی قیادت کیلئے بھی غیر متوقع ثابت ہوئے۔امریکہ اور اسرائیل کے درمیان قریبی تعاون کے باوجود بعض حساس فیصلے محدود سطح پر کیے گئے، جس کی وجہ سے اسرائیلی قیادت کو امریکی پالیسی کے بعض پہلوؤں کا علم بعد میں ہوا۔
اسرائیلی حکام کو امریکی فیصلوں کی مکمل تفصیلات پہلے سے معلوم نہیں تھیں اور کئی اہم پیشرفت بعد میں سامنے آئیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ ایک جانب ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کی پالیسی اختیار کیے ہوئے تھے جبکہ دوسری جانب سفارتی امکانات کو بھی مکمل طور پر بند نہیں کرنا چاہتے تھے۔
اسی تناظر میں واشنگٹن کی بعض سرگرمیوں نے اسرائیلی حلقوں میں تشویش پیدا کی۔ذرائع کے مطابق بعض اسرائیلی عہدیداروں کا خیال تھا کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے حوالے سے اختیار کی جانے والی حکمت عملی اور ممکنہ سفارتی اقدامات سے متعلق انہیں بروقت آگاہ نہیں کیا گیا، جس سے دونوں اتحادی ممالک کے درمیان رابطوں کی نوعیت پر سوالات اٹھے۔



