انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاعلاقائی خبریںکالم

پاک فوج بلوچستان میں دہشت گردی ختم کرنے کیلئے متحرک

تحریر: فرخ ریاض بٹ

 

بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہونے کے ساتھ جغرافیائی اہمیت، قدرتی وسائل، ساحلی امکانات، سرحدی محل وقوع، تہذیبی تنوع اور قومی سلامتی کے تناظر میں ریاست کے مستقبل سے جڑا ہوا ایک بنیادی ستون ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس صوبے میں پیش آنے والا ہر واقعہ محض ایک مقامی انتظامی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات قومی سیاست، داخلی سلامتی، معیشت، سفارت کاری اور ریاستی استحکام تک پھیل جاتے ہیں،بلوچستان اس وقت ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ریاستی رٹ، قانون کی بالادستی، عوامی اعتماد، ترقیاتی حکمت عملی اور قومی یکجہتی کو بیک وقت مضبوط بنانے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔

دہشت گرد نیٹ ورک اب بھی صوبے کے مختلف حصوں میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بلوچستان میں دہشت گردی کا مسئلہ محض داخلی نوعیت کا نہیں۔ سرحدی جغرافیہ، غیر قانونی نقل و حرکت، اسمگلنگ، منظم جرائم، علاقائی کشیدگی اور بیرونی مداخلت جیسے عوامل اس پیچیدہ صورت حال پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

ریاستی ادارے بارہا اس موقف کا اظہار کر چکے ہیں کہ بعض تخریبی عناصر کو سرحد پار سے معاونت اور سہولت میسر آتی ہے، اگرچہ ایسے معاملات میں شواہد کی بنیاد پر سفارتی سطح پر موثر پیروی ناگزیر ہے، تاہم داخلی سطح پر سرحدی نگرانی، جدید ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس کے تبادلے اور علاقائی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت بھی اپنی جگہ موجود ہے۔

سہولت کاروں کے ساتھ خواتین کو خودکش حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اطلاعات اس رجحان کی عکاسی کرتی ہیں کہ شدت پسند عناصر روایتی طریقوں سے ہٹ کر نئی حکمت عملیاں اختیار کر رہے ہیں۔ اس صورت حال میں صرف سرحدی نگرانی یا عسکری آپریشن کافی نہیں بلکہ سماجی نگرانی، مقامی سطح پر معلومات کے تبادلے، تعلیمی اداروں میں شعور کی بیداری، مذہبی و سماجی قیادت کے مثبت کردار اور جدید تکنیکی ذرائع سے نگرانی کے نظام کو بھی مضبوط بنانا ہوگا تاکہ انتہاپسندانہ نظریات کے پھیلائوکو ابتدا ہی میں روکا جا سکے۔

قومی سلامتی کا تقاضا ہے کہ داخلی اور خارجی حکمت عملی میں مکمل ہم آہنگی پیدا کی جائے تاکہ دہشت گرد نیٹ ورکس کو ہر سطح پر محدود کیا جا سکے۔بلوچستان کے نوجوان اس صوبے کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں، اگر انھیں معیاری تعلیم، جدید فنی تربیت، ڈیجیٹل مہارت، تحقیق، کاروباری معاونت اور روزگار کے مواقع میسر آئیں تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ قومی معیشت میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ بے روزگاری اور محدود مواقع نوجوانوں میں مایوسی پیدا کرتے ہیں، جب کہ امید، ہنر اور باعزت روزگار انھیں مثبت قومی کردار کی طرف راغب کرتے ہیں۔

اس لیے تعلیمی اداروں، فنی تربیتی مراکز اور نجی شعبے کے اشتراک سے ایسی جامع حکمت عملی اختیار کی جانی چاہیے جو بلوچستان کے نوجوانوں کو ترقی کے مرکزی دھارے سے جوڑ دے۔ بلوچستان میں سیاسی مکالمہ بھی امن کے قیام کا ایک اہم ستون ہے۔ جمہوری اداروں کا استحکام، آئینی عملداری، سیاسی جماعتوں کی ذمے دارانہ سیاست اور عوامی نمائندوں کا موثر کردار ایسے عناصر ہیں جو ریاست اور معاشرے کے درمیان فاصلے کم کرتے ہیں۔

اختلافِ رائے جمہوری معاشروں کا فطری حصہ ہے، لیکن اسے تشدد، نفرت یا قانون شکنی کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ قومی وحدت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئینی دائرے کے اندر رہتے ہوئے تمام طبقات کو اپنی رائے کے اظہار اور مسائل کے حل کے مساوی مواقع میسر ہوں۔اطلاعاتی محاذ بھی موجودہ حالات میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ دہشت گرد تنظیمیں خوف، افواہوں، گمراہ کن معلومات اور نفسیاتی دباو کے ذریعے ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان فاصلے پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

اس کے مقابلے میں ذمے دار صحافت، مستند معلومات کی بروقت فراہمی، شفاف ابلاغ اور حقائق پر مبنی قومی بیانیہ ناگزیر ہے۔ میڈیا، جامعات، دانشوروں اور سول سوسائٹی کو بھی ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جس میں اختلاف کو دشمنی اور تنقید کو کمزوری نہ سمجھا جائے بلکہ حقائق کی بنیاد پر تعمیری مکالمہ فروغ پائے۔ بلوچستان کے حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ تمام ریاستی ادارے، سیاسی قیادت، عدلیہ، سول انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور مقامی سماجی قوتیں ایک جامع قومی حکمت عملی کے تحت آگے بڑھیں۔

دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں تسلسل، عدالتی نظام کا تحفظ، عوامی اعتماد کی بحالی، ترقیاتی منصوبوں کی شفاف تکمیل، نوجوانوں کی شمولیت، مقامی حکومتوں کو فعال بنانا، احتساب کے موثر نظام کو مضبوط کرنا اور قانون کی بلاامتیاز عملداری ایسے ستون ہیں جن پر دیرپا امن کی مضبوط عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے۔ یہ حقیقت فراموش نہیں کی جا سکتی کہ بلوچستان میں امن صرف ایک صوبے کا مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کے مجموعی مستقبل کا سوال ہے، اگر یہ خطہ محفوظ، خوشحال اور مستحکم ہوگا تو قومی معیشت، علاقائی تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، بین الاقوامی روابط اور داخلی یکجہتی سب کو تقویت ملے گی۔

اس کے برعکس اگر دہشت گردی، خوف اور عدم استحکام کو جگہ ملتی رہی تو اس کے اثرات پورے ملک پر مرتب ہوں گے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف غیر متزلزل عزم کو موثر حکمرانی، آئینی بالادستی، سماجی انصاف، سیاسی ہم آہنگی، معاشی شمولیت اور عوامی اعتماد کے ساتھ مربوط کیا جائے۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا یہ کہنا کہ بلوچستان پاکستان کا فخر ہے اور صوبے میں پائیدار امن ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا، محض ایک رسمی بیان نہیں بلکہ ریاست کی مجموعی پالیسی کا اظہار ہے۔اس بیان میں ایک طرف دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن عزم جھلکتا ہے تو دوسری طرف بلوچستان کے عوام کو امن کے قیام کا سب سے اہم شراکت دار قرار دیا گیا ہے۔ بلوچستان کے عوام نے ماضی میں بھی دہشت گردی کے خلاف بھاری قیمت ادا کی ہے اور آج بھی اکثریت امن، تعلیم، روزگار اور ترقی کی خواہاں ہے۔ اسی لیے ریاست کی کامیابی کا انحصار اس امر پر ہوگا کہ عوام کو قومی ترقی کے حقیقی شریک کے طور پر بااختیار بنایا جائے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button