
مظفر گڑھ میں سانجھی سبزی کا منصوبہ ہو یا ، “پنجاب ہیلتھ کنیکٹ پروگرام” کا آغاز، پنک سالٹ انڈسٹری کے لیے بڑا اقدام، یا نئی فنانسنگ سکیم سے سرمایہ کاروں کو آسان قرضے کی فراہمی،اسی طرح پنجاب لائیوسٹاک کارڈ سکیم فیز 3 میں کسانوں کے لیے 5 لاکھ 40 ہزار روپے تک کا بلاسود قرضہ فراہم کرنے کا انقلابی قدم ہو یا پنجاب میں ایچی سن لیول سکولز میں مریم نواز سینٹر آف اکیڈمک لیڈر شپ کا قیام، یہی نہیں پورے پنجاب میں اپنی چھت محفوظ چھت پروگرام 2026 میں بلا سود قرض سے گھر کی تعمیر و مرمت کروانے جیسے عوام دوست اقدامات کی وجہ سے پہلی مرتبہ پنجاب بھر میں ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو حقیقی معائنوں میں ریلیف مل رہا ہے۔

قارئین کرام یہ جن جن منصوبوں کا میں نے ذکر کیا ہے یہ سب کے سب پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ شروع کئے گئے اور تادم تحریر ان کے ثمرات عوام کی دہلیز تک پہنچ رہے ہیں۔یقینا پہنچنے بھی چاہئیے کیونکہ یہ نواز شریف جیسے عظیم باپ کی عظیم بیٹی مریم نواز کی زیر نگرانی شروع ہوئے تھے۔اب پنجاب کی اس( دھی رانی) نے دیہاتوں میں رہنے والی خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے عملی طور پر اقدامات کرتے ہوئے اپنا مویشی، اپنا روزگار کے نام سے سکیم شروع کردی ہے جس کے تحت ان خواتین کو معاشی طور پر مضبوط بنانے اور انہیں باعزت روزگار فراہم ہوگا جس کیلئے مستحق خواتین کو مفت مویشی فراہم کرکے انہیں خود کفیل بنانا ہے۔

یہ منصوبہ نہ صرف دیہی خاندانوں کی آمدن میں اضافہ کرے گا بلکہ خواتین کو اپنے گھروں کے قریب رہتے ہوئے مستقل روزگار کا ذریعہ بھی فراہم کرے گا۔ بلاشبہ اس وقت پنجاب حکومت کا یہ اقدام غربت میں کمی، معاشی استحکام اور دیہی علاقوں کی ترقی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں پنجاب کے 13 اضلاع کی مستحق دیہی خواتین کو مفت مویشی دیے جا رہے ہیں جس سے یہ خواتین دودھ، دہی، گھی اور دیگر ڈیری مصنوعات فروخت کرکے اپنی آمدن بڑھا سکیں گی، جبکہ اضافی آمدنی سے اپنے بچوں کی تعلیم، صحت اور دیگر ضروریات بھی بہتر انداز میں پوری کر سکیں گی۔

میں بطور صحافی یہ سمجھتا ہوں کہ موجودہ حالات میں پنجاب حکومت کا مقصد صرف مالی مدد فراہم کرنا نہیں بلکہ خواتین کو ایسا ذریعہ معاش دینا ہے جو طویل مدت تک ان کے لیے فائدہ مند ثابت ہواگر اس منصوبے کے اہم فوائد کو دیکھا جائے تو معلوم پڑتا کہ ”اپنا مویشی، اپنا روزگار” پروگرام کے ذریعےمقامی سطح پر ڈیری فارمنگ اور مویشی پالنے کے شعبے کو مزید ترقی ملے گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا وژن ہے کہ صوبے کی ہر مستحق خاتون کو اس کا حق ملے “اپنا مویشی، اپنا روزگار” پروگرام اسی وژن کا عملی نمونہ ہے، جس کے ذریعے ہزاروں دیہی خواتین کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا موقع ملے گا اور وہ اپنے خاندان کی معاشی بہتری میں مؤثر کردار ادا کر سکیں گی۔پنجاب کی ترقی کی جانب ایک مثبت قدم ہوگا ۔
ماہرین کے مطابق اگر اس منصوبے کو کامیابی سے آگے بڑھایا گیا تو آنے والے برسوں میں ہزاروں خاندان غربت سے نکل کر بہتر زندگی کی طرف گامزن ہو سکیں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سابقہ عوام دوست منصوبوں کی طرح ۔”اپنا مویشی، اپنا روزگار” پنجاب حکومت کا ایسا فلاحی منصوبہ ثابت ہوگا جو دیہی خواتین کے لیے امید کی نئی کرن ثابت ہوگا اگر یہ منصوبہ اسی رفتار سے جاری رہا تو نہ صرف خواتین کی معاشی حالت بہتر ہوگی بلکہ پنجاب کی دیہی معیشت کو بھی ایک نئی طاقت ملے گی۔
اسی طرح پنجاب کی بیٹی مریم نوازشریف نے معاشرے کے کمزور اور ضرورت مند طبقات کی مدد کے لیے ایک اور اہم تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے نئی فلاحی اسکیم متعارف کروائی گئی ہے جسے عام طور پر رحمت کارڈ کہا جا رہا ہے۔ اس اسکیم کو بعض جگہوں پر بیوہ سپورٹ کارڈ اور یتیم کفالت کارڈ کے نام سے بھی بیان کیا جاتا ہے۔
اس منصوبے کا مقصد ان خاندانوں کو مالی اور سماجی سہارا فراہم کرنا ہے جن کے گھر کا کفیل فوت ہو چکا ہے اور جو شدید معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، اس اسکیم کے تحت مستحق بیوہ خواتین اور یتیم بچوں کو براہ راست مالی امداد فراہم کی جائے گی تاکہ وہ اپنی بنیادی ضروریات پوری کر سکیں اور عزت کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ یہ پروگرام جدید ڈیجیٹل نظام کے تحت چلایا جائے گا تاکہ شفافیت برقرار رہے اور امداد صحیح لوگوں تک پہنچ سکے۔

سرکاری معلومات کے مطابق اس پروگرام میں بیوہ خواتین کو ایک مرتبہ ایک لاکھ روپے تک مالی مدد دی جا سکتی ہے تاکہ وہ اپنے گھریلو اخراجات، بچوں کی تعلیم اور دیگر ضروریات کو بہتر طریقے سے پورا کر سکیں۔اسی طرح یتیم بچوں کی کفالت کے لیے بھی مالی مدد رکھی گئی ہے جس کے تحت ہر یتیم بچے کو پچیس ہزار روپے تک امداد دی جائے گی۔ اس رقم کا مقصد یہ ہے کہ ایسے بچے جو والد کے سائے سے محروم ہو چکے ہیں انہیں تعلیم، خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات کے لیے مناسب سہارا مل سکے۔ یہاں یہ بات بھی انتہائی قابل غور ہے کہ اگر یہ مالی امداد براہ راست مستحق افراد تک پہنچائی جائے تو یقینا اسکی شفافیت برقرار رہے اور حقیقی ضرورت مند خاندان اس سے فائدہ اٹھا سکیں کیونکہ مہنگائی کے اس دور میں بہت سی بیوہ خواتین کے لیے معاشی مسائل ایک بڑی پریشانی بن جاتے ہیں کیونکہ ان کے پاس آمدنی کا مستقل ذریعہ نہیں ہوتا۔

ایسے حالات میں حکومت کی طرف سے دی جانے والی مالی مدد ان کے لیے بہت اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ کمزور طبقات کا سہارا بنے اور انہیں زندگی کی بنیادی سہولیات فراہم کرے۔اور میں سمجھتا ہوں کہ مریم نواز شریف کی رحمت کارڈ اسکیم اس سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے جس کے ذریعے انہوں نے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ معاشرے کے کمزور طبقات کے ساتھ کھڑی ہے۔بہرحال میں سمجھتا ہوں کہ ایسے تمام عوام دوست منصوبوں کے آغاز کرنے اور ان کو مستقل بنیادوں پر انتہائی کامیابی سے رواں دواں رکھنے پر وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف یقینی طور پر عوامی شاباش کی مستحق بنتی ہے۔شاباش مریم نواز شریف شاباش۔۔آپ نے واقعی ثابت کیا ہے کہ آپ عظیم باپ کی عظیم بیٹی ہے۔



