”دجال کی عالمگیر شیطانی حکومت “ کا قیام(آخری قسط)
فری میسن ،ایلومیناٹی اورکمیٹی آف 300 دنیا بھر میں دجال کے نظام کو رائج کی نگرانی کررہی ہیں

تحریر:(محمد قیصر چوہان) جو لوگ ایک عالمی حکومت کے مطیع و فرمانبردار ہوں گے انہیں زندہ رہنے کے وسائل سے نوازا جائے گا۔ جو لوگ بغاوت کریں گے بھوکے مر جائیں گے یا باغی قرار دیے جائیں گے۔ صرف ایک مذہب کی اجازت دی جائے گی۔ اور وہ ایک عالمی سرکاری کلیسا کی شکل میں ہو گا جو 1920 سے وجود میں آچکا ہے۔

شیطانیت ، ابلیسیت اور جادوگری کی ایک عالمی حکومت کا نصاب سمجھا جائے گا۔ ہر شخص کے ذہن میں یہ عقیدہ راسخ کر دیا جائے گا کہ وہ (مرد ہو یا عورت) ایک عالمی حکومت کی مخلوق ہے اور اس کے اوپر ایک شناختی نمبر لگا دیا جائیگا۔ شناختی نمبر برسلز بیلجیم کے نیٹو کمپیوٹر میں محفوظ ہوگا۔ اور عالمی حکومت کی کسی بھی ایجنسی کی فورس دسترس میں ہوگا۔
شادی کرنا غیر قانونی قرار دیا جائے گا اس طرح کی خاندانی زندگی نہیں ہوگی جیسی آج کل ہے بچوں کو ماں باپ سے چھوٹی عمر میں علیحدہ کر دیا جائے گا۔( بچوں کو پلے گروپ میں بھیجنا اس کی ابتداءہے) اور ریاستی املاک کی طرح وارڈز میں پرورش ہوگی۔ خواتین کو آزادی نسواں کی تحریکوں کے ذریعے ذلیل کیا جائے گا۔ جنسی آزادی لازم ہو گی۔
نوٹ:دجال کی عالمگیر شیطانی حکومت “ کا قیام پہلا حصہ اس لنک
پر ملاحظہ فرمائیں۔
دجال کی عالمگیر شیطانی حکومت “ کا قیام کا دوسرا حصہ
اس لنک پر ملاحظہ فرمائیں
خواتین کا بیس سال کی عمر تک ایک مرتبہ بھی جنسی عمل سے نہ گزرنا سخت ترین سزا کا موجب بنے گا۔ ( امریکہ میں ہر سال انیس سال سے کم عمر کی غیر شادی شدہ لڑکیاں دس لاکھ حرامی بچے پیدا کرتی ہے۔) جنسی اختلاط پر مبنی لٹریچر اور فلموں کو فروغ دیا جائیگا اور ہو سینما کے لیے لازم ہو گا کہ وہ جنسی فلمیں دکھائے جب میں ہم جنس پرستی پر مبنی فلمیں شامل ہوں ، ذہنی قوت سلب کرنے والی ادوایات کا استعمال بھی وسیع تر کر کے اسے لازمی قرار دیدیا جائیگا۔

ذہن پر قابو پانے والی یہ ادوایات کھانوں ،پانی کی سپلائی اور مختلف برانڈ کے مشروبات میں لوگوں کی مرضی کے بغیر دی جا سکیں گی۔ تمام صنعتیں، ایٹمی توانائی سسٹم کے ذریعے تباہ کر دی جائیں گی ۔دجالی نظام کے تحت عورتوں کو آزادی نسواں کی تحریکوں کے ذریعے ذلیل کیا جا رہا ہے۔ اسقاط ِسے نکال کر بوڑھوں کے ہاسٹل میں قیدو تنہائی کی زندگی گزارنے کے لیے ڈالا جا رہا ہے۔ موجودہ دنیا کو ایک عالمی گاﺅں بنانے کی جو کوشش کی جا رہی ہے اس کا مقصدبھی یہی ہے کہ سب نظام ایک عالمی قوت کے ہاتھوں میں سونپ دیا جائے۔

مختلف ملکوں میں کمپیوٹرائز نظام کو تیزی سے پھیلانے کا مقصد بھی یہی ہے کہ اس کے ذریع ساری دنیا کی نگرانی کی جاتی رہے۔ نیو ورلڈ آرڈر کے بعد یہودی ملٹی نیشنلز نے بڑے بڑے تجارتی اداروں اور کمپنیوں کو خریدنا شروع کیا۔نیو ورلڈ آرڈر کے ذریعے دجال کے پیروکار ساری دنیا پر دجالی نظام کو مسلط کرنا چاہتے ۔ یہودی دنیا پر قبضہ کرتے جا رہے ہیں۔
آئی ایم ایف جو دنیا کے 185ممالک کی معیشتوں کا جائزہ لیتا ہے اور مالی مشکلات کا شکار ممبر ممالک کو بیل آﺅٹ پیکیج دیکر اس ملک کے معاشی نظام پر قبضہ کرکے مہنگائی کو فروغ دیکر غربت بڑھا کر عوام کو خودکشیوں پر مجبور کیا جاتا ہے،اس کا بنیادی مقصد پوری دنیا کی آبادی کو پہلے مرحلے میں 2050 تک تین ارب تک محدود کرنا ہے۔اور بعد ازاں مزید کم کر کے ایک ارب تک کرنا ہے تاکہ ان سب کو آسانی سے کنٹرول کیا جا سکے۔فری میسن مختلف وبائی امراض ، دہشت گردی کے واقعات ، بم دھماکوں اور جنگوں کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کر رہی ہے۔ 2019 میں کورونا وائرس کی وباءبھی فری میسن کا ایک ہتھیار تھا اس کے ذریعے اس نے انسانوں کا قتل عام کیا۔

اس دنیا کی ہر چیز کی طرح خود اس دنیا کی بھی ایک ایکسپائر ڈیٹ ہے۔جس کو مغرب والے ٹائم اینڈ اور ہم مسلمان روز قیامت کہتے ہیں۔ اس کی ایک مدت معین ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ قیامت کب برپا ہوگی، اس کے بارے میں کسی کو علم تو نہیں مگر اس کے بارے میں چند نشانیاں ضرور بتا دی گئی ہیں۔ ان نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ پورے روئے زمین پر شیطان کا مکمل غلبہ ہوگا۔ دنیا پر شیطان کا غلبہ مکمل ہونے کے بعد کاﺅنٹ ڈاﺅن شروع ہوگا یعنی مہدی اور عیسیٰؑ کی آمد وغیرہ۔
شیطان کے پاس جو بھی قوتیں ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی ودیعت کردہ ہیں۔ شیطان جو کچھ طلب کرتا گیا، وہ سب اللہ تعالیٰ نے اس کو دے دیں تاکہ اتمام حجت ہوجائے اس دنیا پر خیر اور شر کی قوتوں میں آویزش جاری ہے۔ نبی خیر کے نمائندہ تھے جبکہ شر کا ایک ہی مستقل نمائندہ ہے اور وہ ہے شیطان۔
نبیوں کے بعد کامل مسلمان خیر کا نمائندہ ہیں۔ نبیوں نے بھی اپنے دور کے لحاظ سے خود ہی مقابلہ کیا اور اب خیر کے نمائندوں کو بھی یہی کرنا ہے جبکہ شیطان ہر لمحہ اپنے نمائندوںکی مدد کے لیے موجود ہوتا ہے۔ اس دنیا پر شیطانی غلبہ مکمل کرنے کی سازش کا نام ہی نیو ورلڈ آرڈر ہے جس پر شیطان اپنے ایجنٹوں کے ذریعے کام کررہا ہے۔ شیطان کی پالیسیوں میں تسلسل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ کئی صدیوں سے نیو ورلڈ آرڈر کی سازش کامیابی سے آگے بڑھتی نظر آرہی ہے۔
اس دنیا میں شیطان کے ماننے والوں نے شیطانی پالیسیوں کو آگے بڑھانے کے لیے ہزاروں خفیہ تنظیمیں بنا رکھی ہیں جن میں فری میسن، الومیناتی، راﺅنڈ ہیڈ، اسکل اینڈ بون وغیرہ مشہور ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے این جی اوزکا ایک جال بچھا رکھا ہے جو نیو ورلڈ آرڈر کی تکمیل کے لیے دن رات مصروف ہے۔ شیطان کے پیروکار باقاعدہ تقریبات بھی منعقد کرتے ہیں۔ شیطان کے یہ چیلے اسلام، عیسائیت، یہودیت ہر مذہب میں موجود ہیں۔ عام طور پر یہودیوں کا اس بارے میں خصوصی طور پر نام لیا جاتا ہے تاہم سارے یہودی اس میں شامل نہیں ہیں۔ صہیونی یہودیوں کی بڑی تعداد ضرور اس میں شامل ہے۔ دنیا بھر کے ڈیڑھ سو بااثر خاندان جنہیں نوبیلٹی بلیک کہا جاتا ہے،خاص طورسے نیو ورلڈآرڈر کے لیے کام کرتے ہیں۔
دنیا بھر کے تمام وسائل پر ان ہی ڈیڑھ سو خاندانوں کا تصرف ہے۔ تمام بینکوں، انشورنس کمپنیوں، تیل کی کمپنیوں، تیل کے ذخائر، شپنگ کمپنیوں، ادویہ ساز کمپنیوں، سونے و ہیرے کی کانوں وغیرہ کے مالکان یہی ہیں۔ بینک آف انگلینڈ، فیڈرل ریزرو بینک آف امریکا، پیپلز بینک آف چائنا اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان سمیت دنیا کے تمام مرکزی بینک پرائیویٹ ہیں، جن کے مالکان یہی ہیں۔ یہ ڈھائی سو سال قبل تک تو تھا کہ کسی ملک کی انفرادی پالیسیاں ہوتی تھیں۔
برطانیہ اور پرتگال میں دنیا پر قبضے کی جنگ تھی، اب ایسا نہیں ہے بلکہ نیو ورلڈ آرڈر کے تحت اس کے ایجنٹ چالیں چلتے ہیں کہ مخلوق خدا پر اتنا مکمل قبضہ کیسے کیا جائے کہ وہ اپنے بیڈروم میں بھی جو باتیں کرتے ہیں، وہ ان کے علم میں ہوں اور ان کی مرضی کے بغیر نہ تو کوئی زندہ رہنے پائے اور نہ پیدا ہونے پائے۔ اس کے لیے انہوں نے شروع سے یہ طریقہ کار اختیار کیا کہ کھیل کے میدان میں دونوں ٹیمیں اپنی ہی اتاری جائیں اور نہ صرف ٹیمیں بلکہ کھیل کے قواعد بھی ان کے ہوں اور ریفری بھی۔فری میسن کے حکم پر ہی امریکہ نے نیو ورلڈ آڈر (نئی عالمی پالیسی) کے تحت پاک افغانستان پر قبضہ کیا اور پھردنیا کو تیسری عالمی جنگ کے خوف میں مبتلا کرنے کی پلاننگ پر عمل سمیت دیگر مقاصد حاصل کرنے کے بعدافغانستان سے اتحادی افواج کا انخلاءامریکی استعماری اور انتظامی انخلاءنہیں ہے بلکہ امریکہ کا افغانستان سے فوجی انخلاءنیو ورلڈ آڈرپالیسی کا حصہ تھا۔
برطانیہ نے کل 20 ہزار گورا فوج کی مدد سے متحدہ ہندوستان پر 100 سال اور بعض علاقوں میں اس سے بھی زیادہ عرصہ کامیابی سے قبضہ کیے رکھااور پھر دجالی نظام کو پروان چڑھانے کے مقاصد پورے ہونے کے بعد ان علاقوں کو نام نہاد آزادی دے دی۔ نیو ورلڈ آڈر کے تحت ہی کشمیر اور فلسطین کا تنازع پیدا کیا گیا۔
امریکہ نے جنوبی ایشیا میں کھربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ امریکہ یہ سرمایہ کاری ضائع نہیں کرے گا۔ امریکہ نے نیوورلڈ آڈر پالیسی اس وقت تک جاری رکھنی ہے جب تک خطے سے سیسہ پلائی قومی و ملی مزاحمت کا سامنا نہیں ہوگا۔
خطے میں امریکی انتظامی نیٹ ورک کی فعال سرگرمی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب2012 میں لاہور پولیس نے ریمنڈ ڈیوس کو گرفتار کیا تھاتو امریکی انٹیلی جنس سی آئی اے نے اعلان کیا کہ پاکستان کے اندر ہمارا انتظامی نیٹ ورک آپریشنل انٹیلی جنس نیٹ ورک مکمل ہے ہم پاک فوج اور آئی ایس آئی کے بغیربھی آپریشن کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ نیز اگر پاکستان نے ریمنڈ کو رہا نہیں کیا تو امریکہ پاکستانی مقتدر طبقے کی اولاد اور عزیز و اقارب کو نقصان پہنچائے گا۔ غیر ملکی بنک بیلنس منجمد کردیا جائے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ اس وقت اہل پاکستان کا پاکستانی بن کرجینا مشکل ہوگیا ہے، نیز پاکستانی انتظامیہ کی بدحالی کا حال یہ ہے کہ پاکستان میں ہونے والے حملوں اور دھماکوں کی فوری قانونی تفتیش نہیں کی جاتی بلکہ نام نہاد مزاحمتی قیادت کا فوری اخباری بیان حالات کا رخ بدل دیتے ہیں۔ کورونا وائرس قدرتی آفت نہیں ہے بلکہ یہ نیو ورلڈ آرڈر کی ریہرسل ہے۔
چین کے شہر ووہان سے سمبر 2019میںمنظر عام پرآنے والی وبا کورونا وائرس اب تک کئی شکلیں تبدیل کر چکی ہے۔اس کے مختلف ویرینٹ دنیا بھر میں تباہی مچا چکے ہیں، اب تک لاکھوں جانیں اس وبا کی نذر ہو چکی ہیں، دنیا کی بیشتر مستحکم معیشتیںاس وبا پر قابو پاتے بری طرح لڑکھڑا چکی ہیں۔ اب جبکہ گزشتہ برس کے دوران دنیا کی بیشتر آبادی کو اس وبا سے بچاﺅ کی ویکسین لگائی جا چکی تھی اور زندگی معمول پر آنے ہی لگی تھی کہ جنوبی افریقہ سے کورونا وائرس کا نیا ویرینٹ، اومی کرون منظر عام پر آیا جس نے کچھ ہی روز میں لاکھوں افراد کو متاثر کیا۔
کورونا وائرس کے ذریعے لوگوں کی زندگی بالکل ہی تبدیل کر دی گئی ہے۔جدید ٹیکنالوجی اور آن لائن پیمنٹ، گھر سے کام کرنے اور علی بابا، ایمازون کی گڈز ڈیلیوری جس میں اشیائے خور و نوش اور گروسری بھی شامل ہے، کے جدید انداز سے صارفین کے برتاﺅ میں تبدیلی لائی جا چکی ہے۔زوم ویب وڈیو کانفرنسز کی وجہ سے بزنس ٹریولز میں کمی، ای کامرس، آن لائن بینکنگ کے فروغ، کورونا وائرس کے باعث حکومتوں کا ہیلتھ کیئر کے بجٹ میں اضافہ، ہوم سکول پروگرامنگ، آن لائن ایجوکیشن اور ورچوئل یونیورسٹی کے فروغ کیلئے گھر میں زیادہ وقت گزارنے اور اس بات کا احساس کہ ہماری صحت سب سے پہلے ہے۔
شیطان کے چیلوں کا دنیا بھر میں پھیلا ہوا نیٹ ورک اپنا کام تیز کر چکا ہے اور بے تحاشا وسائل استعمال کر کے صرف عالم اسلام نہیں پوری بنی نوع انسان کو گمراہ کر کے، شیطانی کا موں میں مبتلا کر کے، شیطانی حکومت کا غلام بنارہا ہے۔ ان حالات میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ تمام انسانیت کو ان گمراہیوں اور گناہوں سے بچنے کی توفیق دے جس کا منصوبہ شیطان اور اس کی نمایندہ انسانی طاغوتی قوتوں نے بنارکھاہے اور پوری دنیا کو اس میں ملوث کرنے کے لیے عالمگیر مہم چلارہے ہیں۔



