اسلام آباد(ویب ڈیسک) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحیٰ آفریدی نے کہا ہے کہ آزاد، مؤثر اور عوام دوست عدلیہ قانون کی حکمرانی اور پائیدار ترقی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے انتہاپسندی اور اسلاموفوبیا کے تدارک کے لیے مسلم ورلڈ لیگ کی کوششوں کو بھی سراہا۔
یہ بات انہوں نے سپریم کورٹ میں مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل شیخ ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ اور ان کے اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔ ملاقات میں پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی اور وزارت خارجہ کے سینئر حکام بھی شریک ہوئے۔
مسلم ورلڈ لیگ کی خدمات کو خراج تحسین
چیف جسٹس نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے بین المذاہب مکالمے، رواداری، امن اور مشترکہ انسانی اقدار کے فروغ میں مسلم ورلڈ لیگ کی عالمی خدمات کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ مسلم ورلڈ لیگ اسلام کی حقیقی تعلیمات، انسانی فلاح اور انتہاپسندی و اسلاموفوبیا کے خلاف مؤثر کردار ادا کر رہی ہے، جبکہ ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ کی قیادت بھی قابلِ تحسین ہے۔
عدالتی اصلاحات اور ٹیکنالوجی پر مبنی نظام پر بریفنگ
چیف جسٹس یحیٰ آفریدی نے وفد کو سپریم کورٹ میں جاری اصلاحاتی ایجنڈے، انصاف تک رسائی بہتر بنانے، ادارہ جاتی شفافیت بڑھانے اور ٹیکنالوجی پر مبنی عدالتی خدمات کے فروغ سے آگاہ کیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوام کا عدالتی نظام پر اعتماد مضبوط بنانا اصلاحاتی عمل کا اہم مقصد ہے اور ایک آزاد و مؤثر عدلیہ ہی قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنا سکتی ہے۔
بین الاقوامی تعاون پر زور
چیف جسٹس نے عدالتی اداروں اور بین الاقوامی شراکت داروں کے درمیان تعاون، تجربات کے تبادلے اور بہترین عدالتی طریقہ کار کو فروغ دینے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
ملاقات میں ثالثی، انصاف تک رسائی، عدالتی تعلیم، بنیادی حقوق کے تحفظ اور ادارہ جاتی تعاون بڑھانے کے مختلف امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ڈاکٹر العیسیٰ کا اصلاحاتی اقدامات پر اظہار اطمینان
مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے سپریم کورٹ پاکستان میں جاری اصلاحاتی اقدامات کو سراہتے ہوئے انصاف، رواداری، انسانی وقار اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔
دونوں جانب سے قانون کی حکمرانی، انسانی وقار اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے باہمی ادارہ جاتی روابط مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔



