لاہور (زبیر اسلم خان) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے مطالبے پر آج ملک گیر احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو چاروں صوبوں میں طویل دھرنے دیے جائیں گے۔
حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 28 فروری کی سطح پر واپس لائی جائیں اور پٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر پر مقرر کی جائے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ہوئی ہے، لیکن پاکستان میں عوام کو اس کا فائدہ نہیں دیا جا رہا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو پٹرولیم لیوی ختم کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سے کیے گئے وعدے بھی پورے کیے جائیں۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ آئی پی پیز معاہدوں پر نظرثانی ضروری ہے، کیونکہ مہنگی بجلی اور کیپیسٹی پیمنٹس نے عوام پر شدید بوجھ ڈال دیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ سال عوام سے کیپیسٹی پیمنٹ کی مد میں بھاری رقم وصول کی گئی۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پاکستان کے نوجوانوں سے 1700 ارب روپے وصول کیے گئے، جبکہ ملک میں کروڑوں موٹر سائیکل استعمال کرنے والے مہنگے پٹرول سے متاثر ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جاگیرداروں نے مناسب ٹیکس ادا نہیں کیا، جبکہ عام عوام مہنگائی کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ آئی پی پیز مافیا سے نجات حاصل کی جائے تو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں خود بہتر ہو سکتی ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے پاک سعودی عرب معاہدے میں ایران اور ترکیہ کو بھی شامل کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ خطے کے ممالک کے درمیان تعاون بڑھانا ضروری ہے۔
انہوں نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ پٹرول کی قیمت فوری طور پر 225 روپے فی لیٹر کی جائے، بصورت دیگر جماعت اسلامی احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کرے گی۔



