اسرائیل نے جنگ بندی توڑ دی، لبنان اور غزہ پر حملے جاری، 50 سے زائد افراد جاں بحق
بیروت، غزہ، نیو یارک (ویب ڈیسک): اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی تسلیم کیے جانے کے باوجود لبنان میں حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 50 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے۔ دوسری جانب حزب اللہ نے بھی اسرائیلی فوج کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق لبنان میں اعلان کردہ جنگ بندی چند گھنٹے بھی برقرار نہ رہ سکی اور اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے مبینہ ٹھکانوں پر دوبارہ حملے شروع کر دیے۔
حملوں میں جاں بحق ہونے والوں میں بڑی تعداد عام شہریوں کی بتائی جا رہی ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے جنوبی لبنان میں تعینات فوجیوں پر راکٹ اور گولے داغے گئے، جس کے جواب میں کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
حزب اللہ کا اسرائیلی فوج پر حملے کا دعویٰ
حزب اللہ نے کہا ہے کہ اس نے جنگ بندی کی مکمل پابندی کی، تاہم اسرائیلی فوج کی جانب سے پیش قدمی کی کوشش کے بعد جوابی کارروائی کی گئی۔
حزب اللہ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فوجیوں کو دو مختلف مقامات پر نشانہ بنایا گیا، جس میں دو اسرائیلی کمانڈرز ہلاک جبکہ 15 اہلکار زخمی ہوئے۔
غزہ میں اسرائیلی بمباری، الجزیرہ صحافی سمیت 11 افراد شہید
دوسری جانب غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے، جہاں مختلف علاقوں میں بمباری کے نتیجے میں کم از کم 11 فلسطینی شہید ہوگئے۔
شہید ہونے والوں میں الجزیرہ ٹی وی کے نمائندے احمد وشاح سمیت خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ الجزیرہ نے اپنے صحافی کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے اسے صحافیوں کو نشانہ بنانے کا سنگین واقعہ قرار دیا۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ احمد وشاح کا تعلق حماس کے عسکری ونگ سے تھا، تاہم اس حوالے سے مختلف فریقین کے مؤقف مختلف ہیں۔
سعودی عرب کا دو ریاستی حل پر زور
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں سعودی عرب نے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے دو ریاستی فارمولے کی حمایت کا اعادہ کیا۔
سعودی نمائندے عبدالعزیز الواصل نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ضروری ہے، جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو۔
سعودی عرب نے غزہ میں انسانی امداد کی فوری اور بلا رکاوٹ فراہمی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امداد کو سیاسی دباؤ یا اجتماعی سزا کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
سعودی عرب نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ خطے میں امن و سلامتی کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور عالمی قراردادوں پر عملدرآمد یقینی بنائے۔



